پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

جعلسازی مریم نواز کو مہنگی پڑ گئی

datetime 8  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے پاناما فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنسز دائر کرنے کا کہا تھا جس پر اب عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے، اس طرح اب پاناما کیس کا حتمی مرحلہ شروع ہو گیا ہے، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ان کے دونوں بیٹے حسن نواز اور حسین نواز ان کی بیٹی مریم نواز اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب نے چار ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دے دی ہے،

اس کے علاوہ مریم نواز پر جعلی دستاویزات دینے پر الگ سے شیڈول 2 کا حوالہ دیا گیا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف تحقیقات کو نقصان پہنچانے کی دفعہ 31 اے بھی شامل ہے، مریم نواز کے خلاف الزام کے جرم میں تین سال قید کی سزا ہے، واضح رہے کہ نیب نے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز میں جو دفعات لگائی ہیں ان دفعات کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف 3 ریفرنسز میں دفعہ 18جی جس کی سب سیکشن 9 اے لگائی گئی ہے، نیب آرڈیننس سیکشن 9 اے غیر قانونی رقوم اور تحائف کی ترسیل سے متعلق ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نیب نے دفعہ 9 اے کی تمام 14 ذیلی دفعات کو شامل کیا ہے، سیکشن 9 اے کی دفعات کی سزا 14 سال قید بنتی ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف سیکشن 14سی لگائی گئی ہے اور سیکشن 14سی آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے بارے میں ہے، نیب کی دفعہ 14سی کی بھی سزا 14 سال ہے۔ اگر سزا ہو جاتی ہے تو اس صورت میں عوامی نمائندے تاحیات نااہل ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پر جعلی دستاویزات دینے پر علیحدہ سے شیڈول دو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کے خلاف تحقیقات کو نقصان پہنچانے کی دفعہ 31 اے بھی لگائی گئی ہے، اس جرم میں مریم نواز کو مزید 3 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، بیرسٹر فروغ نسیم کے مطابق یہ نیب ریفرنسز احتساب عدالتوں کو ارسال کر دیے جائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…