منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پروفیسر مشتاق شعبہ مائیکرو بائیولوجی بلوچستان یونیورسٹی کے چیئرمین نکلے

datetime 8  ستمبر‬‮  2017 |

کوئٹہ (این این آئی)کوئٹہ سے انصار الشریعہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار پروفیسر مشتاق بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے شعبہ مائیکرو بائیولوجی کے چیئرمین نکلے ۔آئی ٹی یونیورسٹی ذرائع کے مطابق پروفیسر مشتاق آئی ٹی یونیورسٹی کوئٹہ کے ملازم اورشعبہ مائیکرو بائیولوجی کے چیئرمین ہیں،پروفیسر مشتاق چار سال سے یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ ہیں ٗوہ یونیورسٹی کے بیچلر ہاسٹل میں ہی قیام پذیر تھے ۔ادھرجامعہ بلوچستان کے رجسٹرار طارق جوگیزئی نے کہا کہ

گرفتار پروفیسر مشتاق کاجامعہ بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ جامعہ میں ملازم ہیں۔دوسری جانب انصار الشریعہ کے گرفتار دہشت گردوں سے تحقیقات کے دوران اہم انکشافات ہوئے ہیں ، اس تنظیم کے دہشت گرد تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔انہوں نے موبائل فون ایپلی کیشن کے 5 سافٹ ویئرز بھی بنارکھے تھے جن کا علم حساس اداروں کو ان کی گرفتاری کے بعد ہوا۔ذرائع کے مطابق پانچوں سافٹ ویئر فون کالنگ اور پیغامات کیلئے نہایت محفوظ تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…