جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

اسلام آباد میں میانمار کے سفارتخانے کاگھیراؤ،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کے خلاف جماعت اسلامی 8 ستمبر کو بعد نماز جمعہ اسلام آباد آب پارہ چوک سے میانمار کے سفارتخانے تک احتجاجی مارچ کرے گی ۔ احتجاجی مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کریں گے ۔ مارچ میں ہزاروں عوام شریک ہوں گے ۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ برمی سفیر کو فوری طور پر ملک بدر کیا جائے اور تمام اسلامی و دوست ممالک سے بھی اپیل کی جائے کہ مسئلے کے فوری حل کے لیے برما کے سفیروں کو اپنے اپنے ممالک سے نکالا جائے اور میانمار حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ مسلمانوں کا قتل عام اور جبراً ملک بدری فوری روکی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز ہے ۔ حکومت برمامیں مسلمانوں کے خلاف بدترین اور انسانیت کش مظالم رکوانے کے لیے فوری اقدامات کرے ۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کا اجلاس بلائے ، عالمی برادری ، اقوام متحدہ ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور تنظیمیں اس طرف فوری توجہ دیں اور ہر ممکن مدد کریں ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری اور اقوا م متحدہ برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر کیوں خاموش ہیں ۔دریں اثناء جماعت اسلامی پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم کے خلاف تحاریک التواء،قرارداد زیر قاعدہ218,259 ,توجہ مبذول کرانے کے نوٹسز سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جمع کرادیے ہیں۔ سینیٹ میں تحریکِ التواء ،تحاریک زیر قاعدہ 218 ،توجہ مبذول کرانے کا نوٹس سینیٹر سراج الحق جبکہ قومی اسمبلی میں صاحبزادہ طارق اللہ، صاحبزادہ محمد یعقوب ،شیر اکبر خان اور محترمہ عائشہ سید نے تحاریک التواء جمع کرائی ہیں۔

تحاریکِ التواء میں الیکٹرانک،پرنٹ اور سوشل میڈیاکی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میانمار ،روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے ہزاروں گھر جلا دیے گئے ہیں جبکہ بچوں،خواتین اور مردوں سمیت سینکڑوں مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا گیا ہے۔ایک ہفتہ کے دوران 90ہزار سے زائد بنگلہ دیش کی طرف نقل مکانی کر نے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔برمی فورسز کی طرف سے مسلمانوں کے سر قلم کیے جارہے ہیں اور ان کی لاشوں کو جلایا جارہا ہے ۔

شدت پسندوں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ تو ڑے جارہے ہیں۔مذکورہ واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان حالات میں حکومت پاکستان کو جس طرح کردار ادا کرنا چاہیے تھا، نہیں کیا گیا ۔اراکین پارلیمنٹ نے تحاریک کے نوٹسز میں مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ایوانوں میں اس معاملہ کو زیر بحث لایا جائے اور وزیر خارجہ اور حکومت ایوان زیریں (قومی اسمبلی)اور ایوان بالا( سینیٹ) کو اب تک حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اعتماد میں لیں۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…