جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

’’روہنگیا مسلمانوں پر تشدد‘‘ کس مسلمان ملک کی اہم ترین شخصیت برما پہنچ گئی؟

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

ینگون (آئی این پی )انڈونیشیا کے وزیر خارجہ رٹنو مارسوڈی برما کی لیڈر آنگ سان سوچی اور ملک کے فوجی کمانڈر اور قومی سلامتی کے مشیر کیساتھ ملاقاتوں اور راکھین ریاست میں جاری بحران پر گفتگو کیلئے میانمار پہنچ گئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کے لیے سیکڑوں مظاہرین کئی روز سے جکارتا میں میانمار کے سفارت خانے کے سامنے موجود ہیں۔ وہ انڈو نیشیا کی حکومت پر پناہ

گزینوں کو قبول کرنے پر زور دے رہے ہیں۔انڈونیشیاکے صدر جوکو ویڈوڈو نے کہا ہے کہ میں اور انڈونیشیا کے عوام، ہم اس تشدد کی مذمت کرتے ہیں جو میانمار کی ریاست راکھین میں ہوا۔ اس سلسلے میں محض تنقید کی نہیں بلکہ حقیقی اقدام کی ضرورت ہے۔ حکومت انڈونیشیا کی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری کے تعاون سے انسانی ہمدردی کے بحران کیحل میں مدد دینے سے وابستہ ہے۔انڈونیشیا کے صدر کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے وزیر خارجہ سے کہہ دیا ہے کہ وہ راکھین ریاست کے بحران کے بارے میں میانمار کی حکومت اور بین الاقوامی عہدے داروں سے گفت و شنید کریں۔ان کا کہنا ہے کہ میں نے وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس ،روہنگیا ریاست کے لئیخصوصی ایڈوائزری کمیشن، کوفی عنان،سمیت مختلف فریقوں سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے ۔ ہمارے وزیر خارجہ میانمر حکومت سے تشدد بند کرنے اور مزید تشدد روکنے کے ساتھ ساتھ میانمر کے مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انسانی ہمدردی کی امداد تک رسائی فراہم کرنے کی درخواست کریں گے۔میانمر کے بعدانڈونیشیا کے وزیر خارجہ اپنی جانیں بچا کر فرار ہونے والے لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کی تیاری کے لیے بنگلہ دیش جائیں گے۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے مور سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ راکھین میں گزشتہ ماہ

پھوٹنے والے تشدد کے بعد سے 87000 روہنگیا باشندے جان بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔ اس ریلے کے نتیجے میں امدادی ادارے رسدوں اور طبی دیکھ بھال کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…