اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر عبدالقدیراور پرویزمشرف میں تنازعہ، ہوا کیاتھا؟اس وقت کے وزیراعظم ظفر اللہ جمالی حقیقت سامنے لے آئے

datetime 1  ستمبر‬‮  2017 |

تمبو(این این آئی)سابق وزیر اعظم رکن قومی اسمبلی اور سینئر پارلیمنٹرین الحاج میر ظفراللہ خان جمالی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لازوال قربانیاں ہیں ملکی استحکام سلامتی پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں امریکی صدر کی دھمکیوں سے پاکستانی قوم مرعوب ہونے والی نہیں مشرف ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا

میری سخت مخالفت کے باعث انھیں امریکہ کے حوالے نہیں کیا جاسکا ڈاکٹر قدید خان قومی ہیروہیں جن کی خداداد صلاحیتوں پر پوری قوم کو فخر ہے ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میر ظفراللہ خان جمالی نے کہا کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں کررہا ہے پاکستان پر دوسروں کی جنگ مسلط کردی گئی ہے ہماری پاک افواج اور سیکورٹی ادارے ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے اپنی جانیں قربان کرہے ہیں ان کی لازوال قربانیوں کے باعث آج وطن عزیز کا استحکام اور قومی سلامتی یقینی ہوئی ہے انھوں نے امریکی صدر کی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب امریکہ کے بارے میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی از سر نو تشکیل دینی ہوگی پاکستانی قوم دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگی کیونکہ پاکستان خودایٹمی قوت ہے اور اپنے دفاع اور ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے انھوں نے انکشاف کیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف ڈاکٹر قدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا بحیثیت وزیر اعظم میں نے اس کی مخالفت کی اور اس خلاف ڈٹ گیا جس پر انھیں امریکہ کے حوالے نہ کیا جاسکاڈاکٹر قدید خان نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا وہ قومی ہیروں ہیں جن کی خداداد صلاحیتوں پر پقری پاکستانی قوم کو فخر ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…