اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر دینا قعوارنے کہا ہے کہ روس کی جانب سے یمن میں جاری لڑائی میں ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وقفے‘ کی قرارداد پر غور کرنے کے لیے کونسل کے رکن ممالک کو مزید وقت درکار ہے۔ادھر عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس نے بھی یمن میں لڑائی سے متاثرہ افراد تک طبی امداد پہنچانے کے لیے 24 گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ طبی ٹیموں کو عدن میں داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے ورنہ مزید شہری ہلاک ہو جائیں گے۔روس نے یمن کے مسئلے پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں سعودی کمان میں اتحادی طیاروں کی بمباری میں وقفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تاہم اس قرارداد میں حوثی باغیوں سے جنگ روکنے کے مطالبے کا کوئی ذکر نہیں۔روسی قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ یمن میں ’امداد کی تیز، محفوظ اور بغیر خلل کے فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ امداد کے منتظر افراد تک مدد پہنچ سکے۔ہنگامی اجلاس کے بعد سلامتی کونسل کی موجودہ صدر اور اقوامِ متحدہ میں اردن کی سفیر دینا قعوار نے کہا ہے کہ کونسل کے ارکان کو روسی تجویز پر غور کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔روس نے ایک ایسے وقت میں سعودی بمباری روکنے کی درخواست کی ہے جب خلیجی ممالک اقوامِ متحدہ پر دباو¿ ڈال رہے ہیں کہ وہ قرارداد کےذریعے حوثی باغیوں تک ہتھیاروں کی رسائی سمیت دیگر پابندیاں عائد کرے۔لیکن روس کو اس قرارداد کے متن پر اعتراض ہے۔ روس کی تجویز ہے کہ ہتھیاروں کی درآمد اور برآمد پر پابندی پورے ملک کے لیے ہونی چاہیے اور پابندیاں بھی محدود کی جائیں۔یاد رہے کہ سلامتی کونسل نے 22 مارچ کو یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی کی درخواست پر بھی اجلاس بلوایا تھا جس میں اقوامِ متحدہ کے ایلچی جمال بونیمور نے خبردار کیا تھا کہ یمن بھی شام، عراق اور لیبیا کی طرح ایک طویل خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں ریڈ کراس کی کارروائیوں کے سربراہ رابرٹ ماردینی کا کہنا ہے کہ ’ ہمارے طبی عملے اور امدادی سامان کو یمن میں داخلے اور متاثرہ علاقوں تک بحفاظت پہنچ کر امداد پہنچانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔انھوں نے متنبہ کیا کہ ’اگر ایسا نہ ہوا تو مزید لوگ مارے جائیں گے۔‘رابرٹ ماردینی کا کہنا تھا کہ ’ان علاقوں میں زخمیوں کے زندہ بچنے کا دارومدار آئندہ چند گھنٹوں میں اس سلسلے میں کارروائی سے ہے، دنوں میں نہیں۔ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کے تین ہزار طبی کارکن اجازت ملنے پر یمن میں داخلے کے لیے تیار ہیں اور یہ لوگ اپنے ساتھ 48 ٹن طبی سامان بھی لے جائیں گے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1700 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔عدن میں شیعہ باغیوں اور صدر عبدربہ ہادی منصور کی وفادار فوج کے مابین لڑائی جاری ہے تاہم اتحادی طیاروں کی بمباری کے بعد شہر سے باغیوں کی پسپائی کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔سعودی عرب نے یمن میں 25 مارچ کو فضائی بمباری کی شکل میں مداخلت کا آغاز کیا تھا۔ اس عسکری کارروائی میں اسے دس ممالک کی حمایت اور مدد حاصل ہے۔
یمن لڑائی میں وقفے کی قرارداد پر غور کے لیے وقت درکار ہے،اقوامِ متحدہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
تیل کی قیمت میں 26 سالوں میں سب سے بڑی کمی
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
صحت کارڈ سے کینسر اور کارڈیک سرجری کا علاج ختم
-
نجی ٹی وی کی اینکر نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
-
بڑی خوشخبری: سعودیہ نے ایشیا کیلیے تیل کی قیمت 26 برس کی کم ترین سطح پر کردی



















































