پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

نوازشریف کے رویئے میں تبدیلی،بیرون ملک کب جارہے ہیں؟مریم نواز نے اہم اعلان کردیا

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کا رویہ بالکل بھی تلخ نہیں ہے ، اگر وہ اتنی دیر چپ رہے ہیں اور اب بول رہے ہیں تو سننے کا حوصلہ رکھنا چاہیے ،ملک کی سمت درست کرنے کے لئے تلخ حقیقت بیان کرنی پڑتی ہے ، نواز شریف آج بدھ کو لندن روانہ ہو رہے ہیں اور مجھے بھی جیسے ہی فراغت ملے گی والدہ کی تیماری دادری کے لئے روانہ ہو جاؤں گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے داتا دربار پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مریم نواز نے دربار پر چادر چڑھائی اور اپنی والدہ کی جلد صحتیابی اور این اے 120کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کیلئے دعا کی ۔اس موقع پر صوبائی وزیر بلال یاسین ،سیف الملوک کھوکھر، علی ایاز صادق سمیت کارکنوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔ مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے اور یہ وقت بھی گزر جائے گا اور اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔ میں یہ نہیں کہوں گی کہ برا وقت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس حال میں بھی رکھا بڑا چھا رکھا اور آئندہ بھی بہت اچھے کی امید ہے ۔انہوں نے والدہ کی عیادت کے لئے لندن روانگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ میری والدہ کی انتخابی مہم ہے اور اس کی ذمہ داری میرے حصے میں آئی ہے اور مجھے اسے نبھانا ہے ۔نواز شریف آج بدھ کو لندن جارہے ہیں وہ ہم سب کی نمائندگی کریں گے جیسے ہی فراغت ہو گی میں بھی لندن جاؤں گی ۔میری اپنی والدہ سے روز بات ہوتی ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت عطا کرے ۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا اداروں سے متعلق رویہ تلخ ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ تلخ کہنا مناسب نہیں ہے ۔وہ اتنی دیر چپ رہے ہیں اور اگر اب بول رہے ہیں تو سننے کا حوصلہ رکھنا چاہیے ۔

ان کا رویہ بالکل بھی تلخ نہیں ہے ۔سچائی اگر تلخ لگتی ہے تو کئی مرتبہ سچائیاں اور تلخ حقیقت بیان کرنی پڑتی ہے۔ ملک کی سمت درست کرنے کے لئے آپ کو تلخ حقیت بھی بیان کرنی پڑتی ہے۔ نواز شریف جب بات کرتے ہیں دنیا انہیں سنتی ہے وہ جو بات کرتے ہیں ملک کے لئے کرتے ہیں اس لئے دنیا انہیں سنتی ہے او رانہیں سننا چاہیے ۔

قبل ازیں مریم نواز شریف ریلی کی صورت میں جاتی امراء رائے ونڈ سے روانہ ہوئیں تو اس موقع پر کارکنوں کی ایک بڑی ان کے ہمراہ تھی جو سارے راستے اپنی قیادت کے حق میں نعرے لگاتے رہے ۔پولیس کی طرف سے اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…