جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

بے نظیر بھٹو کاقتل،پوسٹ مارٹم کے وقت آصف زرداری کا کیا ردُمل تھا؟مخدوم امین فہیم اورناہید خان نے کیا بتایا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 28  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج محمد اصغر خان نے کی۔ سماعت کے موقع پر سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز کے وکیل ملک رفیق نے عدالت میں بتایا ہے کہ میرے موکل نے شہید بینظیر بھٹو کے پوسٹ مارٹم کے تمام انتظامات جنرل ہسپتال میں مکمل کروا رکھے تھے

۔سعود عزیز نے بی بی کے پوسٹ مارٹم کے لئے پیپلز پارٹی کی قیادت سے بار بار پوچھا تھا،ایف آئی اے کی رپورٹ میں بھی سعود عزیز کے پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطوں کا درج ہے جبکہ سعود عزیز نے مخدوم امین فہیم اور ناہید خان کو بے نظیر بھٹو کے پوسٹ مارٹم کے لئے کہا تھا۔ ملک رفیق نے اپنے دلائل میں یہ کہا ہے کہ مخدوم امین فہیم اور ناہید خان نے سعود عزیز کو بتایا آصف زرداری محترمہ کا پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے تھے ۔سعود عزیز چکلالہ ائیر بیس پر آصف زرداری سے ملے اور پوسٹ مارٹم کی اجازت مانگی ۔آصف زرداری نے کہا وہ اپنی بیوی کی لاش کو خراب نہیں کرنے دیں گے ۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر میرا موکل محترمہ کے قتل کی سازش میں شریک تھے تو ملزمان کی کہاں ملاقات ہوئی۔ شہید محترمہ کے بلیک بیری فونز تین سال تک کیوں برآمد نہیں کئے گئے۔سعود عزیز کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر عدالت کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یو این او اور سکارٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کو بطور ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا جبکہ رپورٹ کے ساتھ گواہوں کے بیانات ضروری ہوتے ہیں جو ریکارڈ نہیں کئے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…