منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاناما کیس، نوازشریف کی نظرثانی کی اپیل ،چیف جسٹس جواب میں کیا کچھ کرسکتے ہیں؟افتخارچوہدری نے حیرت انگیز پیش گوئی کردی

datetime 27  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے کہاکہ نااہلی کے فیصلے کے خلاف سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاس سپریم کورٹ کافورم ہے ،جس کی وہ باربارتضحیک کررہے ہیں ،نظرثانی کی درخواست پرچیف جسٹس کااختیارہے کہ وہ لارجزبنچ بنائیں ،نوازشریف کوکرپشن کی بنیادپرنااہل کیاگیا۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نااہلی کے فیصلے کے خلاف سابق وزیراعظم نوازشریف جس فورم پربات کررہے ہیں وہ مناسب نہیں ہے ،

نوازشریف سپریم کورٹ کی تضحیک کررہے ہیں ،نوازشریف کے خلاف فورم بھی صرف سپریم کورٹ ہی ہے ،نظرثانی درخواست پرفیصلہ سپریم کوڑٹ نے ہی کرناہے ۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں سپریم کورٹ نے بہت تحقیقاتی کمیشن بنائے ،پانامہ کیس میں دوران سماعت چیئرمین نیب کارویہ غیرمناسب تھا،ڈان لیکس تحقیقات میں ایجنسیوں کے لوگ شامل تھے ۔سپریم کورٹ ایجنسیوں کوتحقیقات کیلئے کہہ سکتی ہے ۔سابق چیف جسٹس نے کہاکہ دبئی ایف زیڈای کمپنی کاانکشاف جے آئی ٹی نے کیا۔نوازشریف کے وکلاء نے بھی تسلیم کیایہ کمپنی حسن نوازکی ہے لیکن نوازشریف نے اس کمپنی سے تنخواہ نہیں لی ،نوازشریف کوکرپشن کی بنیادپرنااہل کیاگیا،نوازشریف نے ایف زیڈای کمپنی الیکشن گوشگواروں میں ظاہرنہیں کی،نوازشریف کواثاثے ظاہرکرناچاہئے تھے ،کیس میں نوازشریف کواورسزابھی دی جاسکتی تھی نااہلی کی سزاکم ہے ،بہت سارے کیسزمیں ڈکشنری استعمال ہوتی ہے ،سپریم کورٹ کاڈکشری استعمال کرنادرسب بات ہے ۔افتخارچوہدری نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں اختلافی نوٹ شامل کرکے فیصلے جاری کرتی ہے ،اکیسویں ترمیم کیس میں بھی دوججزنے ایک اختلافی نوٹ لکھا،آٹھ ججزنے ایک اختلافی نوٹ لکھااور16ججزنے فیصلہ دیا۔پانامہ کیس میں بھی اسی طرح دوججزنے اختلافی نوٹ لکھااورتین ججزنے جے آئی ٹی بنانے کاکہااس کے بعدپانچوں ججزنے فیصلہ دیا۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کاجج احتساب عدالت کی نگرانی کرسکتاہے ،ایسے بہت سے کیسزہیں جن میں نگران جج مقررہوئے ۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نیب کوچھ ماہ کاوقت دیاہے ،نوازشریف اوران کے بچوں کے خلاف ریفرنسزپرفیصلہ کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے زیادہ وقت دیاہے ،ایک مہینہ ہی کافی تھا۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نیب کوکوئی ہدایت نہیں دی ،سپریم کورٹ نے حکم جاری کیاکہ کیسزکافیصلہ چھ ماہ میں کیاجائے ،نظرثانی اپیل پرلارجربنچ بنانے کافیصلہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کریں گے ،نوازشریف جس طرح سپریم کورٹ کے خلاف تنقیدکررہے ہیں ،میری چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ وہ ا زخودنوٹس لیں۔ایک فیصلہ نوازشریف کے خلاف آگیاتوروناشرو ع ہوگئے ،فیصلے پربات کرنااوربات اورفیصلے پرعدالت کی تضحیک کرنااوربات ہ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…