جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

شریف فیملی کے لیے ایک اور بری خبر، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو ایسے کام کی اجازت دیدی کہ سوچا بھی نہ ہوگا

datetime 26  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیب کی طرف سے سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی ممبران کے بیانات قلمبند کرنے کی درخواست کی گئی تھی جو کہ سپریم کورٹ نے منظور کر لی ہے، نیب نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کو نگران جسٹس اعجاز الحسن نے منظور کر لیا۔ نیب نے گزشتہ ہفتے نگران جج کو درخواست دی تھی،

نگران جج جسٹس اعجاز الحسن نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے بیان قلمبند کرنے کی اجازت دے دی ہے، نیب جے آئی ٹی کے بطور استغاثہ گواہ بیانات قلمبند کرے گا۔ اگلے ہفتے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے، واضح رہے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر بیان دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دریں اثناء پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی، اور اسی رپورٹ پر سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا، ان کی نااہلی کے بعد نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا کہا گیا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے جج جسٹس اعجاز الحسن کو مقرر کیا گیا، واضح رہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے والیم 10 عام نہ کرنے کی استدعا کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد نیب نے ریفرنس دائر کرنے کی تیاری شروع کرنے کے لیے عدالت سے والیم 10 تک رسائی کی درخواست کی گئی جس عدالت نے قبول کرتے ہوئے والیم 10 کی کاپی نیب کو دے دی تھی ، جسٹس اعجاز الحسن بیرون ملک چھٹیوں پر تھے، اب وہ پاکستان واپس آ چکے ہیں مگر نیب کی اس درخواست پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو ہدایت کی جائے کہ وہ نیب کی انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔ نیب کا کہنا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ دستاویزات پر ریفرنس دائر نہیں کر سکتی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…