بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ سے آٹھ سائیکل سوار کتنے ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے حج کیلئے سعودی عرب پہنچ گئے؟ جان کر آپ سبحان اللہ کہیں گے

datetime 22  اگست‬‮  2017 |

جدہ (این این آئی)دنیا بھر سے فریضہ حج کی ادائی کے لیے عازمین حج قافلوں کی شکل میں حجاز مقدس پہنچ رہے ہیں۔ برطانیہ سے عازمین حج کا ایک قافلہ سائیکلوں پر تین ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے مدینہ منورہ پہنچا جہاں سرکاری سطح پر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق سائیکلوں پر’دیار شوق‘ کا سفر کرنے والے فرزندانوں توحید نے ایک طویل سفر کئی ہفتوں میں مکمل کیا۔ مدینہ منورہ پہنچنے پر سعودی

حج وعمرہ کونسل کے عہدیداروں، اہم حکومتی شخصیات، سماجی کارکنوں اور عوام الناس نے ان کا شاندار استقبال کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ سے سائیکلوں پرسفر حج کرنے والے 8 برطانوی شہریوں نے اپنا سفر 14 جولائی کو شروع کیا۔ بعد ازاں وہ ’سائیکل سوار قافلہ حجاج‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنی سفری صعوبتوں پر کم بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سائیکلوں پر ایک گروپ کی شکل میں فریضہ حج کے لیے سفر کا مقصد دنیا کو اسلام کی روداری اور اعتدال پسندانہ تصویر دکھانا تھا۔ وہ کئی ملکوں سے گذر کر حجاز مقدس پہنچے ہیں۔ ان کا سفر لندن سے شروع ہوا۔ اس کے بعد وہ فرانس، سوئٹرزلینڈ، اٹلی، آسٹریا، جرمنی، یونان اور مصر سے ہوتے ہوئے سعودی عرب میں داخل ہوئے ہیں۔سائیکل سوار قافلہ حجاج کے 42 روزہ سفر میں انہیں کئی طرح کے موسمی حالات سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ وہ اٹلی کے پہاڑوں سے گذرے تو انہیں ایک بار پھر سوئٹرزلینڈ کیالالب پہاڑی سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد یونان کا سرد موسم اور اگلے مرحلے میں مصر کا گرم صحرا ان کا استقبال کررہا تھا۔سائیکل سوار قافلے کے ’امیر کارواں‘ وحید داؤن نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد پرانے زمانے میں برسوں کا طویل سفر طے کرکے فریضہ حج ادا کرتے تھے۔ اس دور کے سفر کی اپنی ہی ایک روحانی کیفیت ہوا کرتی تھی۔سائیکل سوار قافلہ

حجاج روزانہ اوسطا 150 کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہوئے مصر پہنچے جہاں سے سمندر کی وجہ سے انہیں کشتی کے ذریعے جدہ پہنچنا پڑا۔ تاہم وہ اسفر میں سائیکلیں اپنے ساتھ لائے۔ مدینہ منورہ میں انکا سرکاری اور عوامی سطح پر شاندار استقبال کیا گیا۔مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک انہیں سعودی عرب ایک یوتھ گروپ کی جانب سے سائیکلیں مہیا کی گئیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…