ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

لاہور چیمبر آف کامرس 3 سال سے ڈائریکٹر پبلک ریلیشن سے محروم

datetime 20  اگست‬‮  2017 |

لاہور(یو این پی) لاہور چیمبر آف کامرس 3 سال سے ڈائریکٹر پبلک ریلیشن سے محروم، سابق ڈائریکٹر پبلک ریلیشن نے رولز اینڈ ریگولیشنز کو پامال کرتے ہوئے ادارے کو یرغمال بنا لیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور چیمبر آف کامرس میں ستمبر 2014 تک ڈائریکٹر پبلک ریلیشن کے عہدے پر تعینات رہنے والے شاہد خلیل ’’چمک‘‘ اور اثر و رسوخ کے ذریعے صدرلاہور چیمبر آف کامرس کو ساتھ ملا کر سیکرٹری کی سیٹ پر براجمان ہو گیا جبکہ ڈائریکٹر پبلک ریلیشن کا عہدہ اپنے ماتحت ایک کلیریکل سٹاف کے بندے کے حوالے کر دیا۔ راشدیعقوب نامی کلریکل سٹاف کاایک شخص ستمبر 2014سے صدر و سیکرٹری چیمبر کی ایماء پر ڈائریکٹر پبلک ریلیشن کے اختیارات غیر قانونی طور پر استعمال کر رہا ہے جس سے چیمبر کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ سیکرٹری لاہور چیمبر آف کامرس کی سیٹ پر سابق جنرل ، آئی جی یا ڈی آئی جی لیول کا کوئی بندہ میرٹ کے مطابق تعینات ہو سکتا ہے۔ سیکرٹری کی سیٹ پر غیر قانونی طور پر تعینات شاہد خلیل اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے چیمبر کے دیگر عہدیداران کو ڈراتا دھمکاتا ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے جس کی بازگشت ایف آئی اے تک بھی پہنچ گئی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق صدور و عہدیداران میاں محمد علی، میاں مظفر علی اور میاں مصباح الرحمن نے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ میاں مظفر علی نے عدالت عالیہ میں پٹیشن بھی دائر کی ہے کہ چیمبر میں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں اور خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کیخلاف فوری نوٹس لیتے ہوئے ضابطے کی کارروائی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…