ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

’جنت میں ملنا ہے تو اپنی بیویاں قتل کر کے آو‘

datetime 4  اپریل‬‮  2015 |

ابوجا (نیوز ڈیسک) نائیجیریا میں فوجی ایکشن کے بعد بھاگتے ہوئے بوکوحرام دہشت گردوں کے لیڈر نے اپنے جنگجوﺅں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی زبردستی بنائی گئی بیویوں کو ہلاک کر دیں تاکہ وہ انہیں جنت میں دوبارہ مل سکیں۔ نائیجیریا کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ آپریشن میں بوکو حرام کی خلافت کے مرکز گووزا پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ سابق جنگجو 35 سالہ عثمان علی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ بوکو حرام کے لیڈر ابوبکر شکاﺅ نے اپنے جنگجوﺅں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان خواتین کو قتل کردیں کہ جنہیں زبردستی بیویاں بنایا گیا ہے۔ شدت پسند لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر خواتین کو قتل نہیں کیا جائے گا تو وہ جنت میں جنگجوﺅں کو نہیں ملیں گے۔ عثمان علی کا کہنا ہے کہ اسے زبردستی جنگجو بننے پر مجبور کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بوکو حرام کے لیڈر کے حکم کی تعمیل میں گووزا میں خواتین کا قتل عام کیا گیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ ستمبر میں بوکو حرام نے نائیجیریا کے اہم شہر پر قبضہ کرلیا تھا اور جنگجوؤں نے وہاں کی خواتین سے زبردستی شادیاں کیں تھیں لیکن پیر کے روز نائیجیریا کی فوج نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے وہ شہر واپس حاصل کرلیا ہے۔ فوج کی امان میں آنے کے والے باما کے شہریوں نے بتایا ہے کہ بوکوحرام کے فدائین نے فوج کے قبضے سے دس روز پہلے ہی شہر میں خواتین کو قتل کرنا شروع کردیا تھا۔ایک عینی شاہد سلمیٰ محمود نے بتایا کہ بوکو حرام کے جنگجوؤں کا کہنا تھا کہ اگر وہ اپنی بیویوں کو قتل کردیں گے تو وہ نیک رہیں گی اور وہ انہیں جنت میں جاکر دوبارہ مل جائیں گی۔نائیجیرین فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے ایک شہری اباقاسم کا کہنا تھا کہ اس نے درجنوں خواتین کی نعشیں دیکھی ہیں جنہیں بوکو حرام نے جاتے ہوئے قتل کردیا تھا۔ابھی تک قتل کی گئی خواتین کی درست تعداد نہیں معلوم ہوسکی لیکن یہ بات تشویش سے خالی نہیں کہ درجنوں کی تعداد میں معصوپ خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…