منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’دنیا کا وہ ملک جہاں 6 ماہ تک سورج نہیں نکلتا‘‘ وہاں روشنی کیلئے مصنوعی سورج کا انتظام کیسے کیا گیا؟

datetime 15  اگست‬‮  2017 |

اوسلو(مانیٹرنگ ڈیسک)ناروے کا ایک قصبہ رجیوکن (Rjukan) دنیا کا وہ مقام ہے جو صدیوں تک ہر سال مسلسل 6 ماہ تک سورج کی روشنی سے محروم رہا تھا اور پھر اس نے شیشے کو سورج بنالیا۔قطب شمالی کے دائرے کے شمالی خطے میں واقع ہونے کی وجہ سے ناروے میں مئی کے اواخر سے لے کر جولائی کے آخری دنوں تک پورے عرصے میں دن اور رات کے دوران سورج افق پر نظر آتا رہتا ہے،

یہی وجہ ہے کہ ناروے کو ”آدھی رات کے سورج کی سرزمین“ بھی کہا جاتا ہے جبکہ نومبر سے جنوری کے اواخر تک شمالی علاقوں میں سورج افق کی بلندی پر نہیں چڑھتا، یوں دن کی روشنی کا وقت ملک بھر میں بہت مختصر ہوجاتا ہے۔ناروے کا یہ منفرد قصبہ ایک گہری وادی میں واقع ہونے کی وجہ سے سردیوں کے 6 ماہ کے دوران سورج کی روشنی سے مکمل محروم رہتا تھا اور اس وادی کے اردگرد واقع بلند وبالا پہاڑوں کی وجہ سے سردیوں کے موسم میں سورج کی روشنی یہاں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔پھر 30 اکتوبر 2013 کو اس قصبے کے سامنے واقع پہاڑ پر نصب عظیم الجثّہ آئینوں کا باضابطہ افتتاح کیا گیا تو یہاں کے باسیوں نے سردیوں کے مہینے میں پہلی مرتبہ سورج کی روشنی کو زمین پر اترتے دیکھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قصبے میں آئینے نصب کرکے سردیوں کے مہینوں میں سورج کی روشنی کے حصول کا خیال آج سے ایک صدی قبل پہلی مرتبہ 1913 میں پیش کیا گیا تھا۔اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی عظیم الجثہّ آئینے کی تنصیب کا منصوبہ ایک قابل عمل آپشن میں تبدیل ہوتا گیا اور 2006 کے دوران اٹلی کے ایک گاؤں میں اسی طرح کا ایک آئینہ سورج کی روشنی کے حصول کے لیے نصب کیا گیا تھا۔ناروے کے باشندے اس قصبے کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران جنگی ماحول سے دور رہنے کے لیے ایک بہترین جگہ تصور کرتے تھے۔

ان آئینوں کو پندرہ سو فٹ کی بلندی پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے نصب کیا گیا، جن کی تیاری اور تنصیب پر تقریباً آٹھ لاکھ پچاس ہزار ڈالرز کی لاگت آئی، یہ آئینے کمپیوٹر کے ذریعے یا خود کار انداز میں سورج کی روشنی کے رخ پر از خود گھوم جاتے ہیں، انہیں عام طور پر شمسی توانائی کے حصول کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔یہاں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ یہ وہ قصبہ ہے جہاں ایک ناممکن امر کو ممکن بنا دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…