منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کابلین ٹری سونامی ،حقیقت کیا ہے؟بین الاقومی یونین برائے تحفظ ماحولیات(آئی یو سی این)کی رپورٹ میں حیرت انگیزانکشافات

datetime 14  اگست‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی) بلین ٹری سونامی جنگلات منصوبے نے خیبرپختونخوا میں غیر آباد زمین میں پودے لگانے کا اپنا ہدف حاصل کرلیا اور نمایاں طور پر 3لاکھ48ہزار ہیکٹرز غیر آباد زمین کی بحالی اور اس میں پودے لگانے کا ہدف بھی نمایاں طور پر عبور کرلیا، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے2015میں بلین ٹری سونامی منصوبے کا آغاز کیا گیا،

جس کا مقصد بنجراور غیر آباد زمین اور پہاڑی علاقوں کو بروئے کار لاناہے، اس مہم سے خیبرپختونخوا کو بون چیلنج کا 3لاکھ 48ہزار400ہیکٹرز پر پودے لگانے کا وعدہ پورا کرنے میں مدد ملی۔بین الاقومی یونین برائے تحفظ ماحولیات(آئی یو سی این)کی رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی جنگلات منصوبے نے خیبرپختونخوا میں غیر آباد زمین میں پودے لگانے کا اپنا ہدف حاصل کرلیا اور نمایاں طور پر 3لاکھ48ہزار ہیکٹرز غیر آباد زمین کی بحالی اور اس میں پودے لگانے کا ہدف بھی نمایاں طور پر عبور کرلیا، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے بلین ٹریز سونامی منصوبے کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد بنجراور غیر آباد زمین اور پہاڑی علاقوں کو بروئے کار لانااور صوبے میں ہندوکش پہارٹی علاقوں میں زمین کی تبائی اور نقصان سے بچانا تھا،مہم کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا صوبے میں بون چیلنج کے 348,400ہیکٹر کا وعدہ پورا کرنے میں مدد ملی ہے جو 2020تک 150ملین ہیکٹرز اور2030تک 350ملین ہیکٹرز خراب زمین کو بحال کرنے کی عالمی کوشش کا حصہ ہے،یہ اقدام پہلے بون چیلنج کے تحت بحالی کے مقاصد کی طرف پہلاقدم ہے اور یہ پہلا قومی منصوبہ بن گیاہے ۔خیبرپختونخوا گرین گروتھ اینیشیٹیو کے چیئرمین ملک امین اسلم نے کہا کہ منصوبہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف بہترین قدرتی دفاع پیدا کررہا ہے

جبکہ کے پی کیلئے مستحکم ماحول بھی پیدا کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں یہ جنگلات بڑھا کر عالمی حدت کے خلاف جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ڈائریکٹر جنرل آئی یو سی این اینگر اینڈرسن نے کہا کہ اس انتہائی اہمیت کے حامل سنگ میل کے حصول پر خیبرپختونخواہ مبارکباد کا مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ جنگلات کی بحالی اور بنجر زمین کی آبادکاری میں پاکستانی قیادت کی کاوشیں بین الاقوامی سطح پر بحالی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کا بھی مظہر ہے۔

دریائے سندھ ،سوات اور دریائے کنہار کے کنارے لگائے والے درختوں سے نہ صرف زمین کے کٹا کو روکنے میں مدد ملی بلکہ زرعی زمین کو محفوظ بنانے ‘ شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنے ، جنگلی حیات کی بحالی اور فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی مقدار کو کنٹرول کرنے اور حیاتی ماحول تنوع کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملی ہے۔ بلین ٹری سونامی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے خیبرپختونخواہ حکومت کی طرف سے 123ملین ڈالر کے فنڈز جاری کیے گئے جب کہ منصوبے کو جون 2020 تک جاری رکھنے کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے مزید 100ملین ڈالر جاری کیے جائیں گے۔

ان فنڈز کے اجرا کے بعد یہ منصوبہ ملک کا سب سے بڑا ماحولیاتی سرمایہ کاری کا منصوبہ بن جائے گا،بحالی کے اس منصوبے میں قدرتی ماحول میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ سال 2016 میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے گرین پاکستان پروگرام کے تحت ملک کے طول و عرض میں100ملین درخت لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کی طرف سے سماٹرا میں مئی 2017 میں ہونے والی اعلی سطحی بون چیلنج کے تحت قومی سطح پر 100,000ہیکٹر غیر آباد اور بنجر زمین کو شجرکاری کے ذریعے آباد کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔(اح+ن ق)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…