ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

فیصلے کے وقت جسٹس کھوسہ کیاکہا؟تنازعہ بڑھنے کے بعد عمران خان مزید بھی بہت کچھ کہہ گئے،حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاہے کہ جب ان کی پارٹی نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤ ن ( شہر کی ناکہ بندی) کر نے کا اعلان کیا تھا تو سپریم کورٹ کے ایک جج نے ان سے ریکوئسٹ(درخواست)کر کے کہا تھا آپ سپریم کورٹ آجائیں ۔یہ بات تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی تھی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔

ویڈیو میں عمران خان نے کہا کہ جب ہم نے اسلام آبا د کو لاک ڈاؤ ن کر نے کا فیصلہ کیا تھا تو مجھے یاد ہے کہ عدلیہ بیٹھی تھی او ر مجھے سپریم کورٹ کے ایک جج نے ریکوئسٹ (درخواست)کی تھی کہ سڑکوں پر بیٹھنے کے بجائے یہاں (سپریم کورٹ)آجائیں ۔ اس موقع پر ٹی وی اینکر نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا موجودہ یا ریٹائر جج نے آپ سے رابطہ کیا تھا تو عمران خان نے جواب دیا کہ وہی جو بینچ تھاشاید جسٹس کھوسہ نے کہا تھا ۔یہ جو بینچ بیٹھا تھا فرسٹ کو (پہلی تاریخ کو)اس کے بعد فیصلہ کیا تھاکہ دو تاریخ کو ہم کال آف کررہے ہیں (لاک ڈاؤن ختم کررہے ہیں) جج نے ہم سے کہا آپ یہاں آ جائیں ۔انہوں نے ریکوئسٹ (درخواست)کی تھی کہ آپ عدالت میں آ ئیں ۔عمران خان نے کہاکہ میں آئین پر چلنے والا اور جمہوریت پسند ہوں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہاہے کہ ایک انٹرویو کے دور ان میں نے جو کچھ کہا تھا اسے جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کر نے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے ایک اخباری تراشے کا عکس بھی اپ لوڈ کیااور کہاہے کہ میں نے جسٹس آصف کھوسہ کے ان ریمارکس کا حوالہ دیا تھا مذکورہ اخباری تراشے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کے یہ ریمارکس درج ہیں کہ سپریم کورٹ تنازعات کے حل کا سب سے اعلیٰ فورم ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…