جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

تعمیر خانہ کعبہ

datetime 24  جولائی  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے زمین پر تشریف لے آئے تو بارگاہ خداوندی میں عرض کیا۔ کہ خدایا میں یہاں نہ تو ملائکہ کی تسبیح و عبادت کی آواز سن سکتا ہوں نہ ہی کوئی عبادت خانہ نظر آتا ہے جیسا کہ آسمان میں بیت المعمور دیکھتا تھا۔ جس کے ارد گرد ملائکہ طواف کرتے تھے۔ اس پر اللہ پاک کا حکم آیا کہ جاؤ جہاں پر ہم نشان بتائیں وہاں پر کعبہ بیت اللہ بنا دو۔

اور اس کے ارد گرد طواف بھی کر لو اس کی طرف نماز بھی ادا کر لو۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کی رہبری کے لئے ان کے ساتھ چل پڑے۔ اور انہیں اس مقام پر لے آئے جہاں سے زمین بنی تھی یعنی جس جگہ جھاگ بنی تھی اور پھر وہی جھاگ پھیل کر پوری زمین بنی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلامجبرائیل علیہ السلام نے اپنا پر مار کر ساتویں زمین تک بنیاد رکھ دی۔ جس کو ملائکہ نے پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے بھرا، کوہ طور، کوہ لبنان، کوہ جودی، کوہ طور زیتا، اور کوہ حرا۔ بنیاد بھرنے کے بعد نشان کے لئے چاروں طرف کی دیواریں بھی اٹھا دیں۔ اس طرف حضرت آدم علیہ السلام نماز بھی پڑھتے رہے اور طواف بھی کرتے رہے۔ طوفان نوح تک کعبہ اسی حالت میں رہا۔ طوفان کے وقت وہ عمارت آسمان پر اٹھا لی گئی اور وہ جگہ ایک اور اونچے ٹیلے کی صورت میں رہ گئی۔ مگر لوگ پھر بھی برکت کے لئے یہاں آتے تھے۔ اور آ کر دعائیں مانگتے تھے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک کعبہ اسی حالت میں رہا۔ جب حضرت اسماعیل اور حضرت حاجرہ یہاں آ کر رہے اور یہاں کچھ آبادی ہو گئی تو حضرت حاجرہ کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ حضرت اسماعیل کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ کی عمارت تعمیر کریں۔ اس کی نشانی اس طرح کی گئی کہ ایک بادل کا ٹکڑا بھیجا گیا تاکہ اس کے سایہ سے کعبہ کی حد مقرر کی جائے۔

حضرت جبرائیل نے اس سایہ کی مدد سے خط کھینچا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس خط پر اس قدر کھدائی کی کہ بنیاد آدم نمودار ہو گئی۔ پھر اس پر عمارت بنائی۔اس کی بلندی ۹ ہاتھ تھی ار رکن اسود سے رکن شامی تک دیوار کی لمبائی ۳۳ ہاتھ اور رکن شامی سے رکن غربی تک ۲۲ ہاتھ۔ اور رکن غربی سے رکن یمانی تک ۳۱ ہاتھ اور رکن یمانی سے رکن اسود تک ۲۰ ہاتھ تھی۔ اس طرح خانہ کعبہ کی عمارت مستطیل کی شکل میں بنی۔

حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ کے اندر ایک تغار سا بنایا ۔ تاکہ کعبہ کے لئے جو نذرانے اور تحفے آئیں وہ اس میں رکھے جا سکیں۔ اس کے دروازے دو تھے ایک داخل ہونے کے لئے اور ایک نکلنے کے لئے۔ کعبہ بنانے والے حضرت ابراہیم تھے اور ان کو گار اور پتھر اٹھا کے دینے والے حضرت اسماعیل تھے۔ اس دفعہ اس کی تعمیر کے لئے ۳ پہاڑوں کے پتھر لائے گئے۔ بعد میں اس عمارت میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی۔ اس کی اونچائی مزید بڑھائی گئی۔ دروازہ بھی دو کے بجائے ایک کیا گیا۔

موضوعات:



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…