منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

بعض اوقات جیسا نظر آتا ہے ویسا ہوتا نہیں

datetime 20  جولائی  2017 |

دو مسافر ایک مرتبہ رات گزارنے کے لیے ایک دولت مند خاندان کے گھر  میں ٹھہرے۔ وہ لوگ انتہائی مغرور اور بد تمیز تھے، انہوں نے فرشتوں کو گھرکے گیسٹ روم میں جگہ دینے سے منع کر دیا۔ بلکہ انہیں گھر کے نچلے حصے میں ایک چھوٹی سی جگہ دے دی گئی۔ جیسے ہی انہوں نے اس سخت فرش پر اپنے سونے کے لیے جگہ بنانا شروع کی

تو بڑے فرشے نے وہاں دیوار پر موجود ایک سوراخ دیکھا جسے اس نے فوراً بھر دیا۔ جب چھوٹے فرشتے نے پوچھا  کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اس نے جواب دیا: بعض اوقات جیسا نظر آتا ہے ویسا ہوتا نہیں۔اگلے دن انہوں نے ایک غریب کسان کے ہاں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ  اور اسکی بیوی دونوں ہی بہت مہمان نواز تھے۔ اپنا کھانا ان دونوں کو اپنا کھانا دے کر دونوں میاں بیوی نے فرشتوں کے اپنے ہی بستر پر جگہ دے دی جہاں وہ خود ہی سو کر دن بھر کی تھکن اتارتے۔ جیسے ہی سورج طلوع ہوا اور فرشتوں کی آنکھ کھلی تو انہوں نے کسان اور اسکی بیوی کو روتے پایا کہ ان کا واحد سرمایہ اور کمانے کا ذریعہ گائے مرچکی ہے۔ یہ دیکھتے ہی چھوٹے فرشتے نے بڑے فرشتے سے کہا: تم نے ایسا ہونے کیسا دیا؟  پہلے گھر میں جہاں ہمیں سونے کے لیے صحیح جگہ بھی نہیں دی گئیتھی تم نے ان کی مدد کی جبکہ غریب کسان اور اس کی بیوی نے اپنا کھانا اور یہاں تک کہ اپنے سونے کی  جگہ بھی ہمیں دے دی مگر تم نے ان کی بھینس کو مرنے دیا۔ بڑے فرشتے نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا: بعض اوقات جیسا نظر آتا ہے ویسا ہوتا نہیں۔ میں نے امیر گھرانے میں سوراخ اس لیے بھرا کہ اس سوراخ میں سونے کا ذخیرہ پڑا تھا۔

اب چونکہ اس گھر کا سربراہ اتنا لالچی اور مادہ پرست تھا کہ اس نے ہمیں سونے کے لیے جگہ تک نہ دی تو میں نے بھی اس سوراخ کو بھر دیا تاکہ وہ سونے کو ڈھونڈ ہی نہ سکے۔ اور اس آخری رات جب ہم سوئے تو میں نے دیکھا کہ موت کو فرشتہ اس بوڑھے کسان کی بیوی کو لینے آیا ہے تو میں نے اسے اس کے بجائے اس کی بھینس دے دی۔ بعض اوقات جیسا نظر آتا ہے ویسا ہوتا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…