جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اسحاق ڈار دبئی کے حکمران کے ملازم نکلے ،کتنے ارب تنخواہ لی؟ وزیر خزانہ پاکستان سے متعلق دستاویزات میں سنسنی خیز انکشافات

datetime 18  جولائی  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پاس بھی دبئی کا ( ورک پرمٹ ویزا ) ہے اور دبئی کے شاہی خاندان کے پاس ملازمت کرتے ہیں ۔ اسحاق ڈار نے یہ دستاویزات ایک دن قبل سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہیں جن میں انہوں نے اپنی آمدن بارے معلومات فراہم کی ہیں ۔

اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی کے حکمران شیخ مبارک النیہان کے مشیر ہیں اور تین سالوں کی خدمات کے عوض 82 لاکھ پونڈ جو ایک ارب روپے بنتے ہیں بطور تنخواہ وصول کی ہے یہ 82 لاکھ پاؤنڈ بنک الفلاح گلبرگ برانچ لاہور میں ڈیپازٹ کرا رکھے ہیں تاہم اسحاق ڈار نے شیخ مبارک النیہان کے ساتھ مشیر کا عہدہ اور نوکری حاصل کرنے کا کوئی سرٹیفیکیٹ یا معاہدہ پیش نہیں کیا ہے ۔ ایک سادہ کاغذ پر عدالت کو بتایا ہے کہ وہ دبئی کے حکمرانوں کا ذاتی ملازم ہے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ دبئی کے حکمرانوں کی البرق نامی کمپنی میں ملازم ہیں تاہم انہوں نے البرق کمپنی کی پاکستان سے کاروباری معلومات فراہم نہیں کیں ۔ اسحاق ڈار نے چالاکی سے یہ معلومات جے آئی ٹی کو فراہم نہیں کی تھیں جس کا مقصد تھا کہ کہیں جے آئی ٹی ان معلومات اور دستاویزات کا فرانزک تجزیہ نہ کرائے اور اصل حقائق سامنے آ جائیں ۔ عدالت عظمیٰ آج سے اسحاق ڈار اور وزیر اعظم نواز شریف کی دبئی کے اقامہ ویزا رکھنے بارے تحقیقات کر رہی ہے یہ بدقسمی ہے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار دبئی کے اقامہ ویزا رکھنے کے ساتھ ساتھ دبئی کے حکمرانوں کے ذاتی ملازم بھی نکلے ہیں ۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے ٹیکس چوری کے لئے اپنی ایک ارب روپے کے اثاثوں اور آمدن پر عائد 17 کروڑ روپے ٹیکس قومی خزانہ میں جمع کرانے کے بجائے ہجویری ٹرسٹ کو فراہم کر دیئے ۔ اسحاق ڈار ہجویری ٹرسٹ میں ٹیکس چوری کے پیسے سے داتا دربار لاہور اور بری امام دربار اسلام آباد میں دیگیں تقسیم کرتے ہیں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…