ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’بھارت صرف ایک یہ کام کردے تو دہشتگردی خود ہی ختم ہو جائے گی‘‘

datetime 16  جولائی  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف افغانستان میں بھارت کے 65قونصل خانوں کو ختم کرکے جنوبی ایشیاء میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کا خاتمہ کرسکتے ہیں ، بھارت جنوبی ایشیاء کا امن خراب کرنے کیلئے نچلی ذات کے ہندؤں کو ٹارگٹ بنارہا ہے ،

جو تشویشناک ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے شہرقندھار میں بھارت کے 65قونصل خانے جس میں اسرائیلی ، بھارتی اور افغانی خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ٹاپ ایجنٹ دہشتگردوں کوٹریننگ دے کر پاکستان کے دیگر شہروں میں بھیج کر دہشتگردی کے واقعات کراتے ہیں جس سے اب تک سینکڑوں معصوم لوگ بم بلاسٹ ، خود کش دھماکوں میں زندگی گنوا بیٹھے ہیں۔ پولیس فورس اور پاک فوج کے جوان بھی جاں بحق ہوئے بھارت افغانستان کی مدد سے 65 قونصل خانو ں میں دہشتگردوں کو خفیہ ٹریننگ دے کر مختلف تنظیموں کی شکل میں پاکستان اور بھارت کے اندر چھوڑ رکھے ہیں جس کے باعث پاکستا ن کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں، خودکش دھماکوں سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث تھے تمام نیٹ ورکس کے سربراہ کلبھوشن سدھیر یادیو کی گرفتاری کے بعد بھار ت کی کمر تو ٹوٹ گئی مگر دہشتگردی کا نیٹ ورک تاحال ختم نہیں ہوسکا جس کے باعث بھارت اسرائیل ، افغانستان کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کے منصوبوں پر گامزن ہیں ، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ قندھار میں بھارتی قونصل خانوں میں تربیت یافتہ بھارتی ایجنٹ بھارت کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کا روپ دھار کر ہندؤ وں کی نچلی ذات کو قتل کرکے الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں ۔ ہندو یاتریوں پر حملہ کرنے والا گروہ میں بھی بھارتی کارندے ملوث تھے ، یاترہ میں شریک تمام ہندوؤں کا تعلق نچلی ذات سے تھا بھارت نے سازش کے تحت اپنے یاتریوں کو قتل کرکے الزام حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین اور پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی مگر اس کا ری ایکشن اُلٹا ہوگیا ،

بھارت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے آگیا ، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف افغان میں موجود بھارت کے 65 قونصل خانوں کو ختم نہ کیا تو جنوبی ایشیاء میں دہشتگردی کا نیٹ ورک ختم نہیں ہوسکتا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوامِ متحدہ کو باقاعدہ مکتوب بھی لکھ دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…