ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

قطر کے کچھ لوگوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

datetime 15  جولائی  2017 |

دوحہ(این این آئی)قطر کے کچھ لوگوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا گیا،قطر کے ایک اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ قطر کے کچھ لوگوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا گیاہے تاہم اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایاکہ ان لوگوں کو مسجد حرام میں داخلے سے کیوں روکا گیا ہے اوریہ کون لوگ ہیں ،اس پر سعودی عرب کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیاگیا۔

دریں اثناسعودی عرب کے وزیر ثقافت واطلاعات نے انکشاف کیا ہے کہ خلیجی ریاست قطر سوشل میڈیا پر سرگرم اکاؤنٹس کی مدد سے سعودی عرب میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں پر اکسانے کی سازش کرتا رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق وزیر ثقافت ڈاکٹر عواد العواد نے ایک بیان میں بتایا کہ مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹویٹر‘ پر سعودی عرب کی مخالفت میں سرگرم 23 ہزار اکاؤنٹس کا پتا چلا ہے۔ ان میں لندن میں مقیم سعد الفقیہ کا ’مجتھد‘ نامی اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔ڈاکٹر عواد نے بتایا کہ قطر نے 21 اپریل اور 2 جون کو سعودی عرب  میں حکومت مخالف مظاہروں پر اکسانے کے لیے ٹویٹر اکاؤنٹس کے ذریعے تخریب کاروں کی معاونت کی کوشش کی تھی مگر قطر کی دونوں بار سازشیں بری طرح ناکام ہوگئی ہیں۔وزیر ثقافت کا کہنا تھا کہ قطری حمایت یافتہ ٹویٹر اکاؤنٹس سعودی عرب میں عوام الناس کو بہکانے پر کام کررہے ہیں۔ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے جسے کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا۔سعودی وزیرثقافت واطلاعات کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاض حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کو بدنام کرنے اور حکومت کے خلاف سوشل میڈیا پر سازشوں میں سرگرم ہزاروں اکاؤنٹس کا پتا چلایا ہے۔سعودی شاہی دیوان کے مشیر سعود القحطانی کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق مملکت کے خلاف سب سے زیادہ ’ٹویٹس‘ قطر کی طرف سے سامنے آئی ہیں جن کی تعداد 32 فی صد ہے۔اسی طرح لبنان سے 28،ترکی سے 24 اور عراق سے 12 فی صد ٹویٹس میں سعودی عرب کے خلاف اکسایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹویٹر پرموجود 94 فی صد اکاؤنٹس پر فرضی تصاویر شامل ہیں۔ چارفی صد تصاویر سوشل میڈیا سے لی گئی ہیں جب کہ دو فی صد کی صحت کے بارے میں تصدیق نہیں ہوسکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…