جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

بکھری ہوئی اپوزیشن وزیراعظم کے استعفیٰ پر اکٹھی ہو گئی

datetime 14  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت پانچ سال مکمل کرے، جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں، وزیراعظم سے ایک بار پھر استعفیٰ کا پرزور مطالبہ،سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعادہ، مشترکہ اپوزیشن اجلاس کے بعد رہنمائوں کی میڈیا سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق ن لیگ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے موقع پر مشترکہ اپوزیشن رہنمائوں کے بلائے گئے اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنمائوں

نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حکومت کے خلاف نہیں، جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں تاہم جے آئی ٹی کے الٹرا سائونڈ کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اپوزیشن رہنمائوں نے پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے اور سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اور پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں ، حکومت جے آئی ٹی پر تابڑ توڑ حملے کر رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جلائو گھیرائو کا ماحول نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس کی حمایت کریں گے کیونکہ ہمیں عدالتوں پر اعتماد ہے اور کیس عدالت میں ہے، تحریک انـصاف کےرہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پانامہ کیس کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنا واضح موقف رکھتی ہے ، ہم جمہوریت کے حامی ہیں تاہم وزیراعظم نواز شریف کو اب مستعفی ہو جانا چاہئے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے جے آئی ٹی میں ہونے والے الٹرا سائونڈ کے بعد انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ مشترکہ اپوزیشن رہنمائوں کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ اور شیری رحمان ، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری، مسلم لیگ ق کے پرویز الٰہی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، پیپلزپارٹی شیرپائو کے آفتاب احمد شیرپائو ، جماعت اسلامی کے سراج الحق سمیت دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…