بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

بھارتی فوج چین کے علاقے میں کیوں داخل ہوئی اور جنگ کے خطرے کے باوجود واپس کیوں نہیں جارہی؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 11  جولائی  2017 |

لندن(آئی این پی)مودی کا چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر موقف آبیل مجھے مار کے مترادف ہے، بھارت کی ڈونگ لانگ میں زیادہ دلچسپی اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ہے، چین بھوٹان کے نام پر بھارتی مداخلت پر بھارت کے خلاف ہر قسم کا فیصلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، غیر ملکی میڈیا سائٹ کاؤنٹر پنچ کے مطابق مودی سرکار کا چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر موقف آبیل مجھے مار کے مترادف ہے۔

بھارت کی ڈونگ لانگ میں زیادہ دلچسپی اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ہے کیوں کہ ڈونگ لانگ تین ممالک کے درمیان ایک اسٹریٹجک پلیٹ فارم ہے جو تنگ سلائیووری گلیڈور یا “چکن گردن” سے اوپر کھڑا ہے جو شمال مشرقی ریاستوں کو باقی بھارت سے جوڑتا ہے.۔چین کا اس علاقے پر کنٹرول کا مطلب بھارت کے شمال مشرقی ریاستوں کو کاٹنا ہے۔بھارت کا یہ بیان کہ بھوٹان کے فوجیوں نے سرحد پر حملہ کیا بھی غلط ہے بلکہ بھوٹانی افواج نے بھارتی فوجیوں کی مدد بھی نہیں کی ۔چینی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت امن و امان سے سرحدی کشیدگی میں کمی نہیں لانا چاہتا تو چین بھارت کے خلاف ہر قسم کے فیصلے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔دریں اثناء چین نے دھمکی دی ہے کہ بھارت کا چینی سرحدی علاقہ سکم پر فوجی کارروائی سوچی سمجھی سازش ہے، بھارت لمبی مدت تک سرحد پر کشیدگی برقرار رکھنا چاہتا ہے، کیوں کہ بار ہا افوج کی واپسی کے مطالبہ کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے،چین اپنی علاقائی سلامتی کے لئے ہر آپشن استعمال کرنے میں حق بجانب ہو گا،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گذشتہ روز میڈیا کے کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارتی میڈیا رپورٹس کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ بھارت کا فی الحال ڈونگ لانگ سکم سیکٹر سے اپنی افواج کی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں تو اس سے چین کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ بھارت نے سازش کے تحت چینی سرحدی علاقہ پر چڑھائی کی ہے۔

اگر ایسا ہے تو اس کا سیسی و سفارتی حل کیسے نکل سکتا ہے۔جب کہ چین کا موقف پہلے دن سے واضح ہے کہ بھارت بین الاقوامی تعلقات اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی افواج کو واپس بلائے۔بھارت اگر سرحدی علاقہ اور خطے میں امن کی خواہش رکھتا ہے تو اسے بغیر کسی شرط کے سکم اور دوکھلم سیکٹر سے اپنی افواج کا انخلا کرنا ہو گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ کسی بھی نتیجہ خیز مذاکرات کی شروعات سے پہلے بھارتی فوج کا انخلا لازم ہے ۔ چین اپنی علاقائی سلامتی کے لئے ہر ہر آپشن استعمال کر سکتا ہے۔ترجمان نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین اپنے علاقہ میں ہر قسم کی تعمیر کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے۔چین کے اس حق پر کوئی بھی بین الاقوامی طاقت کوئی قدغن نہیں لگا سکتی۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…