جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فوج چین کے علاقے میں کیوں داخل ہوئی اور جنگ کے خطرے کے باوجود واپس کیوں نہیں جارہی؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 11  جولائی  2017 |

لندن(آئی این پی)مودی کا چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر موقف آبیل مجھے مار کے مترادف ہے، بھارت کی ڈونگ لانگ میں زیادہ دلچسپی اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ہے، چین بھوٹان کے نام پر بھارتی مداخلت پر بھارت کے خلاف ہر قسم کا فیصلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، غیر ملکی میڈیا سائٹ کاؤنٹر پنچ کے مطابق مودی سرکار کا چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر موقف آبیل مجھے مار کے مترادف ہے۔

بھارت کی ڈونگ لانگ میں زیادہ دلچسپی اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ہے کیوں کہ ڈونگ لانگ تین ممالک کے درمیان ایک اسٹریٹجک پلیٹ فارم ہے جو تنگ سلائیووری گلیڈور یا “چکن گردن” سے اوپر کھڑا ہے جو شمال مشرقی ریاستوں کو باقی بھارت سے جوڑتا ہے.۔چین کا اس علاقے پر کنٹرول کا مطلب بھارت کے شمال مشرقی ریاستوں کو کاٹنا ہے۔بھارت کا یہ بیان کہ بھوٹان کے فوجیوں نے سرحد پر حملہ کیا بھی غلط ہے بلکہ بھوٹانی افواج نے بھارتی فوجیوں کی مدد بھی نہیں کی ۔چینی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت امن و امان سے سرحدی کشیدگی میں کمی نہیں لانا چاہتا تو چین بھارت کے خلاف ہر قسم کے فیصلے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔دریں اثناء چین نے دھمکی دی ہے کہ بھارت کا چینی سرحدی علاقہ سکم پر فوجی کارروائی سوچی سمجھی سازش ہے، بھارت لمبی مدت تک سرحد پر کشیدگی برقرار رکھنا چاہتا ہے، کیوں کہ بار ہا افوج کی واپسی کے مطالبہ کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے،چین اپنی علاقائی سلامتی کے لئے ہر آپشن استعمال کرنے میں حق بجانب ہو گا،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گذشتہ روز میڈیا کے کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارتی میڈیا رپورٹس کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ بھارت کا فی الحال ڈونگ لانگ سکم سیکٹر سے اپنی افواج کی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں تو اس سے چین کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ بھارت نے سازش کے تحت چینی سرحدی علاقہ پر چڑھائی کی ہے۔

اگر ایسا ہے تو اس کا سیسی و سفارتی حل کیسے نکل سکتا ہے۔جب کہ چین کا موقف پہلے دن سے واضح ہے کہ بھارت بین الاقوامی تعلقات اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی افواج کو واپس بلائے۔بھارت اگر سرحدی علاقہ اور خطے میں امن کی خواہش رکھتا ہے تو اسے بغیر کسی شرط کے سکم اور دوکھلم سیکٹر سے اپنی افواج کا انخلا کرنا ہو گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ کسی بھی نتیجہ خیز مذاکرات کی شروعات سے پہلے بھارتی فوج کا انخلا لازم ہے ۔ چین اپنی علاقائی سلامتی کے لئے ہر ہر آپشن استعمال کر سکتا ہے۔ترجمان نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین اپنے علاقہ میں ہر قسم کی تعمیر کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے۔چین کے اس حق پر کوئی بھی بین الاقوامی طاقت کوئی قدغن نہیں لگا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…