منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

تم نے اسباب پہ بھروسہ کیا تھا ۔میں نے مسسب الاسباب پہ

datetime 11  جولائی  2017 |

ہم دونوں ایک ہی گاوں سے تھے ۔۔لیکن ہم میں بہت فرق تھا ۔۔میرے پاس ڈگری تھی ۔ میں انگلش بول سکتا تھا ۔لاہور کے ایک ملٹی نیشنل ادارے میں ملازم تھا ۔ملازم بھی کیا غلام ہی سمجھِں ۔۔گاوں جاتا تو لوگ رشک کرتے ۔ابا سینہ چوڑا کر کے چلتے ۔لیکن وہ نہین جانتے تھے کہ ان کے اس سینہ چوڑا کرنے کی قیمت میری غلامی ہے ۔صبح نو سے پانچ کی اوقات تھی ۔لیکن یہ صرف پیپرز مین لکھے جانے والے اوقات تھے ۔حقیقت تو یہ تھی کہ میں اور میرے جیسے ہمہ وقت ملازم ہوتے ہیں ۔

نوکری ختم ہونے کے بعد بھِی نوکر ہی ہوتے ہیں ۔کبھی کبھی تو اپنا نام بھی بھول جاتا ہے ۔مصنوعی مسکراہٹیں ۔مصنوعی ماحول ۔لیکن ابا بہت خوش تھا ۔اس نے میری تعلیم کے لئَے جو زمین بیچی تھی میرے بابو بن جانے سے وہ قیمت وصول ہوگئِ تھی ۔گاوں جاتا تو مستقیم کا بھِی خیال آتا ۔لاہور میں کبھی اتنا ٹائم ہی نہیں ملا کہ اس سے کوئی کانٹیکٹ کرتا ۔ویسے بھی بے چارہ ایک معمولی سے مدرسے کا فارغ التحصیل لاہور میں کیا کرلیتا ؟آخری بار سنا تھا کہ کسی نئی سوسائٹی میں بچوں کو جاکر قرآن پڑھاتا ہے ۔ویسے بھی مستقیم سے ملنے سے میرے کون سے کانٹیکٹ بننے تھے ۔اس بار گاوں گیا تو سوچا پرانے دوستوں سے ملاقات ہوجائَے ۔ویسے بھی یہ گاوں ہی تھا جہاں تھوڑی بہت ٹور بن جاتی ہے ۔بھرم رہ جاتا ہے ۔ہماری زندگی بھِی ٰعجیب ہوجاتی ہے ۔شہر اور گاوں ہر جگہ اجنبی بن جاتے ہیں ۔میں گھر سے نکلا تو سامنے سے مستقیم آرہا تھا ۔وہی دوستانہ مسکراہٹ اور صحت پہلے سے کافی بہتر ۔میری آنکھوں میں کوے کے پنجوں کے نشان گہرے ہوگئے ،بلکہ پتا نہیں کیوں ایسا لگا جیسے کوے نے چونچ بھی ماری ہو ۔دل چاہا مستقیم شکائِتیں کرے ۔کہے کہ اس کا لاہور میں گزارہ نہیں ہوتا ۔میں اس کی نوکری کا کوئی بندوبست کردوں تو وہ احسان مند ہوگا ۔پھر میں اس سے کہوں کہ پگلے ۔یہ کاروپوریٹ کلچر ہے ۔ تمہیں اپنی داڑھی منڈوانی پڑے گی ۔رگڑ رگڑ کر شیو کرنی پڑے گی ۔

ٹخنوں سے اونچی شلوار اتار کر کریز والے پتلون پہننے پڑیں گے ۔تم کرلو گے ؟پھر میں تمسخر سے ہنسوں گا ۔کہوں گا کہ اور ہاں اس کے لئے ایک اچھی صورت والی ڈگری بھیِ چاہیے ۔کاش تمہارا ابا بھِی تمہیں قران پڑھانے کی بجائے کوئی ڈگری دلا دیتا ۔کیسے ہو مستقیم ؟اللہ کا بڑا کرم ہے ۔۔اچھا کب آئے لاہور سے ؟بس جمعرات کو آیا تھا ۔انشاللہ اتوار کو واپسی ہے ۔۔کیا کر رہے ہو آج کل ؟ بس دو تین چھوٹی دکانیں لی ہوئی ہیں ۔دکانیں ؟میں نے حیرت سے پوچھا ؟کہاں کس جگہ ؟

بس بھائی ایک دکان ارم شاپنگ مال میں ہے ۔دوسری فردوس شاپنگ سینٹر اور تیسری گلاب سینٹر میں ۔مجھَے لگا جیسے اس نے میرا مذاق اڑایا ہو۔۔تو قران پڑھانا چھوڑ دیا ؟نہیں بھائی ۔۔کیسے چھوڑ دوں ۔اللہ نے اس کے ذریعے ہی تو رزق کھولا ہے ۔لیکن ان دو تین دکانوں کے لئَے تو بہت سرمایہ چاہیئے ۔بس اللہ نے بندوبست کردیا سارا ۔برکت دی ۔اس کا کرم ہے ۔لیکن کیسے ۔۔؟بات یہ ہے بھائی ۔۔اس نے میرے کاندھے پے ہاتھ رکھا ۔۔تم نے اسباب پہ بھروسہ کیا تھا ۔میں نے مسسب الاسباب پہ ۔۔۔۔۔۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس  فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…