جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

حکومت نے پاناما کیس کا فیصلہ آنے سے قبل ہی جارحانہ حکمت عملی اختیار کرلی،جے آئی ٹی اور عمران خان کے ساتھ اب کیا ہونیوالا ہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 8  جولائی  2017 |

اسلام آباد(آن لا ئن)حکومت نے پاناما کیس میں عدالت عظمی کا فیصلہ آنے سے قبل ہی جارحانہ سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا جائے گا ساتھ ہی حکومتی وزراء کی جانب سے جے آئی ٹی میں شامل دو مقتدر اداروں کے نمائندوں پر بھی اعتراضات اٹھا دیئے گئے ہیں جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زندگی کے ذاتی معاملات کو میڈیا اور عوام میں اچھالا جائے گا ،

اس کے لئے ٹاسک وزیرا عظم نواز شریف نے اپنے اتحادی جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو دے دیا ہے جو کہ سیتا وائٹ کیس کو دوبارہ اچھالیں گے اور ٹیریان کے معاملے پر عمران خان کو نا اہل کروانے کے لئے سپریم کورٹ ، الیکشن کمیشن اور قومی اسمبلی میں رٹ اور ریفر نس دائر کیا جائے گا ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہفتہ کو ایک اور مشاورتی سیاسی اجلاس ہوا جس میں سینئرو فاقی وزراء4 4 خواجہ آصف ، شاہد خاقان عباسی ، سعد رفیق اور احسن اقبال سمیت بعض آئینی اور قانونی ماہرین نے شرکت کی اور اس اجلاس میں بعض اہم فیصلے کئے گئے ہیں جس کے تحت اب حکومت جارحانہ رویہ اختیار کرے گی ، اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لے گی جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تمام کاروائی کو بھی جانبدار قرار دیا گیا اسی لئے وزراء4 4 نے پفتہ کی شام پریس کانفرنس میں جے آئی ٹی پر کڑی تنقید کی اور واضح کر دیا کہ انھیں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ، وزیرا عظم نواز شریف کا ذرائع کے مطابق کہنا تھا کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے جے آئی ٹی میں گئے مگر اب انھیں لگ رہا ہے کہ ان کے خاندان کا احتساب نہیں بلکہ انتقام لیا جا رہا ہے ،

ایک ایک کاغذ پیش کر دیا اور کیا چاہتے ہیں یہ لوگ ، جے آئی ٹی کے دائرہ اختیار پر بھی اس اجلاس میں اعتراضات اٹھا دیئے گئے جبکہ اعلی عدلیہ کے حوالے سے بھی اجلاس میں کچھ سوالات کئے گئے ہیں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ان سازشیوں کو بے نقاب کرین گے جو کہ جمہوریت کے خلاف کھیل کھیل رہے ہیں ،

وزراء اور آئینی ماہرین نے وزیر اعظم کو بعض اہم مشورے بھی دیئے جبکہ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرتے آئے ہیں اور وہ کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائیں گے جس سے جمہوری اداروں کو نقصان ہو اور ن لیگ حکومت میں ہے سمجھ داری سے سارے معاملا ت کو کنٹرول کرے گی۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…