جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی میں 14ہزارپاکستانیوں کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ سنادیاگیا،کتنے افراد کو پناہ ملی ؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 6  جولائی  2017 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں اس سال کے آغاز سے لے کر مئی کے آخر تک چودہ ہزار سے زائد پاکستانی تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیے گئے جن میں سے صرف 519پاکستانیوں کو پناہ کی اجازت دی گئی،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تارکین وطن و مہاجرت (بی اے ایم ایف) کے اعداد و شمارنے کہاکہ ان پانچ ماہ کے دوران چودہ ہزار میں سے محض پانچ سو انیس پاکستانی شہریوں کو جرمنی میں رہنے کی اجازت دی گئی۔

باقی تمام پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔یوں اس برس پاکستانی شہریوں کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح اب تک صرف تین اعشاریہ سات فیصد رہی ہے، جو کہ گزشتہ برس کی نسب کچھ زیادہ، لیکن اس سے پہلے کے برسوں کی نسبت پھر بھی کافی کم ہے۔سن 2016 کے پورے سال میں تیرہ ہزار پاکستانی تارکین وطن کی درخواستوں پر فیصلے کیے گئے تھے، جن میں سے قریب ستانوے فیصد رد کر دی گئی تھیں۔ سن 2015 میں قریب سترہ فیصد پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستیں منظور کر لی گئی تھیں۔بی اے ایم ایف کے جاری کردہ اس سال کے پہلے پانچ ماہ کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو ان فیصلوں میں تین سو نو پاکستانی شہری ایسے تھے، جنہیں جرمنی میں بین الاقوامی اور جرمن قوانین کے مطابق تسلیم شدہ مہاجر کے طور پر پناہ دی گئی۔پینسٹھ پاکستانی شہریوں کو اس برس جرمنی میں ’عارضی تحفظ‘ فراہم کیا گیا جب کہ 145 پاکستانیوں کو دیگر وجوہات کی بنا پر جرمنی سے ملک بدری کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔بی اے ایم ایف کے ان اعداد و شمار کے مطابق یہ ادارہ مزید ساڑھے چار ہزار پاکستانی تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور ان کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔جرمنی میں پناہ کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلوں کے خلاف اپیل بھی کی جا سکتی ہے۔ جن چودہ ہزار پاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر فیصلے کیے گئے،

ان میں سے ساڑھے پانچ سو درخواست گزار ایسے بھی تھے جنہوں نے ابتدائی فیصلوں کے خلاف اپیل کر رکھی تھی۔اپیلوں میں بھی پاکستانی تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ ملنے کا تناسب صرف دو فیصد رہا اور صرف چودہ افراد کو جرمنی میں رہنے کی اجازت مل سکی اور دیگر تمام پاکستانیوں کی درخواستیں دوسری مرتبہ بھی رد کر دی گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…