بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

جرمنی میں 14ہزارپاکستانیوں کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ سنادیاگیا،کتنے افراد کو پناہ ملی ؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 6  جولائی  2017 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں اس سال کے آغاز سے لے کر مئی کے آخر تک چودہ ہزار سے زائد پاکستانی تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیے گئے جن میں سے صرف 519پاکستانیوں کو پناہ کی اجازت دی گئی،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تارکین وطن و مہاجرت (بی اے ایم ایف) کے اعداد و شمارنے کہاکہ ان پانچ ماہ کے دوران چودہ ہزار میں سے محض پانچ سو انیس پاکستانی شہریوں کو جرمنی میں رہنے کی اجازت دی گئی۔

باقی تمام پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔یوں اس برس پاکستانی شہریوں کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح اب تک صرف تین اعشاریہ سات فیصد رہی ہے، جو کہ گزشتہ برس کی نسب کچھ زیادہ، لیکن اس سے پہلے کے برسوں کی نسبت پھر بھی کافی کم ہے۔سن 2016 کے پورے سال میں تیرہ ہزار پاکستانی تارکین وطن کی درخواستوں پر فیصلے کیے گئے تھے، جن میں سے قریب ستانوے فیصد رد کر دی گئی تھیں۔ سن 2015 میں قریب سترہ فیصد پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستیں منظور کر لی گئی تھیں۔بی اے ایم ایف کے جاری کردہ اس سال کے پہلے پانچ ماہ کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو ان فیصلوں میں تین سو نو پاکستانی شہری ایسے تھے، جنہیں جرمنی میں بین الاقوامی اور جرمن قوانین کے مطابق تسلیم شدہ مہاجر کے طور پر پناہ دی گئی۔پینسٹھ پاکستانی شہریوں کو اس برس جرمنی میں ’عارضی تحفظ‘ فراہم کیا گیا جب کہ 145 پاکستانیوں کو دیگر وجوہات کی بنا پر جرمنی سے ملک بدری کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔بی اے ایم ایف کے ان اعداد و شمار کے مطابق یہ ادارہ مزید ساڑھے چار ہزار پاکستانی تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور ان کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔جرمنی میں پناہ کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلوں کے خلاف اپیل بھی کی جا سکتی ہے۔ جن چودہ ہزار پاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر فیصلے کیے گئے،

ان میں سے ساڑھے پانچ سو درخواست گزار ایسے بھی تھے جنہوں نے ابتدائی فیصلوں کے خلاف اپیل کر رکھی تھی۔اپیلوں میں بھی پاکستانی تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ ملنے کا تناسب صرف دو فیصد رہا اور صرف چودہ افراد کو جرمنی میں رہنے کی اجازت مل سکی اور دیگر تمام پاکستانیوں کی درخواستیں دوسری مرتبہ بھی رد کر دی گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…