جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ٹوئٹر نے کشمیریوں کے حق میں مہم چلانے والے سینکڑوں اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے

datetime 6  جولائی  2017 |

لاہور ( آن لائن) برہان وانی کا یوم شہادت قریب آنے پر ٹویٹر انتظامیہ نے کشمیریوں کے حق میں مہم چلانے والے سینکڑوں اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔ بھارتی دباؤ پر ختم کئے گئے اکاؤنٹس میں جماعۃالدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید،حافظ عبدالرحمن مکی اور انوائیٹ میگزین سمیت دیگر کشمیری جماعتوں کے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے کئی اکاؤنٹس بھی معطل کئے گئے ہیں۔ برہان وانی کے یوم شہادت کے

حوالہ سے جماعۃالدعوۃ پاکستان نے سات سے انیس جولائی تک عشرہ شہدائے کشمیر منانے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلہ میں ملک گیر سطح پر بڑے پیمانے پر مہم چلائی جارہی ہے۔ جماعۃالدعوۃ کے مرکزی و ضلعی اکاؤنٹس سمیت مختلف رہنماؤں کی جانب سے سات جولائی کو یوم شہدائے کشمیر منانے اور لاہور، اسلام آباد، راولا کوٹ و دیگر شہروں میں ہونے والے پروگراموں کی بھرپور تشہیر کی جارہی تھی کہ بھارتی دباؤ پر ٹویٹر انتظامیہ نے جماعۃالدعوۃ کی سوشل میڈیا پر جاری سرگرمیوں کیخلاف گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے حافظ محمد سعید اور حافظ عبدالرحمن مکی سمیت دیگر مختلف رہنماؤں کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔ انگریزی میگزین انوائیٹ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے کئی اکاؤنٹس بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔ جماعۃالدعوۃ پاکستان کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے برہان وانی سمیت دیگر کشمیری شہداء کے حق میں اور بھارتی مظالم کیخلاف مہم چلانے پر ٹویٹر انتظامیہ کی طرف سے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی دباؤ پر ٹویٹر انتظامیہ کا کشمیریوں کے حق میں سرگرمیاں جاری رکھنے والے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ ٹویٹر انتظامیہ بھی نہتے کشمیریوں کی قتل و غارت گری اور کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والی بھارتی فوج اور بی جے پی حکومت کیخلاف آواز بلند کرے لیکن ایسا کرنے کی بجائے مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے والے اکاؤنٹس ہی ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جماعۃالدعوۃ ایسی مذموم حرکتوں سے پریشان ہونے والی نہیں ہے۔ نئے اکاؤنٹس بنا کر مظلوم کشمیریوں کی مددوحمایت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ترجمان نے کہاکہ فیس بک اور ٹویٹر انتظامیہ کی طرف سے پہلے بھی ایسی حرکتیں کی جاتی رہی ہیں جسے کسی صورت درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…