جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کی ذاتی زندگی پر تنقید کرنیوالے کیپٹن(ر) صفدر صحافی پر برس پڑے،مریم نواز بارے کیا سوال پوچھا گیا تھاجس پر وہ آگ بگولہ ہو گئے؟

datetime 5  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جے آئی ٹی کے رو برو پیشی کے موقع پر جوڈیشل اکیڈمی کے باہر ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی صحافی سے تلخ کلامی، مریم نواز کے میسجز کا ذکر آنے پر دختر اول کے شوہر برا منا گئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جے آئی ٹی کے روبرو پیشی کے

موقع جوڈیشل اکیڈمی کے باہر ان کے شوہر کیپٹن صفدر اور صحافی میں تلخ کلامی ہوئی ہے۔ کیپٹن (ر)صفدر اپنی اہلیہ کی پیشی کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی ذاتی زندگی پر تنقید کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ مریم نواز پاکستان کو آگے لے کر جانا چاہتی ہیں اور وہ وقت دور نہیں ہے ۔انہوں نے پی ٹی آئی سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب ! ضلع میانوالی کی ایک بیٹی اپنے باپ کی تلاش میں ہے۔اس کو اپنا سایہ تو دے دیں۔ اس کے لیے ایک راستہ تو بنا دو۔ کل کو جب وہ بنی گالہ میں زکوٰۃ کی دولت سے بنی ہوئی آپ کی وراثت میں اپنا حق مانگے گی تو عدالت اس وقت کیا قانون اور عدلیہ اس کو اپنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی بیٹیوں کو ڈی چوک میں لا کر ناچ گانے کروانا آسان کام ہے۔ جب اپنے گھر پر باری آئے گی تو میں غیرت مند باپ ہونے کے ناطے سوال کرتا ہوں کہ اس وقت پتہ نہیں آپ پر وقت کیسے گزرے گا۔کیپٹن (ر) صفدر کی اس بات پر صحافیوں نے احتجاج کیا جس پر ایک صحافی نے کہا کہ میرے پاس مریم نواز کے پیغامات محفوظ ہیں جن میں ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف انوسٹمنٹ میں آپ آ کر نوکری کریں جس پر ہم آپ کو اچھی تنخواہ دے سکتے ہیں۔ صحافی کا کہنا تھا کہ بورڈ آف انوسٹمنٹ میں نہ جانا اور آزادانہ طور پر کام کرنا میرا فیصلہ تھا۔ مریم نواز کے پیغامات کا حوالہ دینے پر کیپٹن (ر) صفدر نے صحافی سے تلخ کلامی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ پتہ ہے میتلا صاحب! کہ آج سے پانچ چھ ماہ پہلے آپ بھی نواز شریف کی زیر کفالت کیلئے درخواست لیکر میرے پاس آئے تھے، اس کے بعد کیپٹن (ر)صفدر دوسرے صحافیوں کی جانب متوجہ ہوئے تو صحافی نے انہیں کہا کہ مجھ سے اپنی بات کا جواب تو سن لیں جس پر کیپٹن(ر)صفدر آگ بگولہ ہو گئے اور کہا کہ مجھے آپ کا جواب نہیں چاہئے ، بیٹھ جائیں مگر صحافی نے اپنی بات جاری رکھی جس پر کیپٹن(ر)صفدر نے اس صحافی کو کہا کہ ’’میرے پاس آپ کے ماموں کے میسجز موجود ہیں جو مجھے ریاض سے بھیجے تھے، چھوڑ دیں آپ‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…