بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

چینی جنگی جہاز امریکی بحری بیڑے کو روکنے کیلئے روانہ ہوگئے،چینی سرکاری میڈیاکا اعلان،پوری دنیامیں کھلبلی مچ گئی

datetime 3  جولائی  2017 |

بیجنگ (آئی این پی)چینی جنگی جہاز امریکی بیڑے کی موجودگی پر بحیرہ جنوبی چین روانہ ہوگئے، چینی سرکاری میڈیاکا اعلان، چین کے جنگی جہاز متنازعہ جزیرے کی جانب روانہ کر دیئے گئے ہیں، چینی صدر شی جن پھنگ نے ٹرمپ سے بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے کی متنازعہ جزیرے کے قریب موجودگی پر احتجاج کیا ہے،شی نے کہا ہے کہ منفی محرکات امریکہ اور چین تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں،

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صدور نے جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے،بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اشتعال انگیزی ہے،چینی وزارت خارجہ نے امریکی جنگی بیڑے یو ایس ایس سٹیٹ ہیم کے جنوبی بحیرہ چین میں متنازع جزیرے کے نہایت قریب سے گزرنے پر شدید مذمت کی ہے، چینی سرکاری نشریاتی ادارہ کی جانب سے نشر کی گئی تفصیلات کے مطابق چین کے جنگی جہاز متنازعہ جزیرے کی جانب روانہ کر دےئے گئے ہیں۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے ٹرمپ سے بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے کی متنازعہ جزیرے کے قریب موجودگی پر احتجاج کیا ہے۔شی نے کہا ہے کہ منفی محرکات امریکہ اور چین تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صدور نے جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی بحری بیڑے سے متعلق بات چیت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا نہ تردید نہ تصدیق۔ بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اشتعال انگیزی ہے۔چینی وزارت خارجہ نے امریکی جنگی بیڑے یو ایس ایس سٹیٹ ہیم کے جنوبی بحیرہ چین میں متنازع جزیرے کے نہایت قریب سے گزرنے پر شدید مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی بیڑہ جنوبی بحیرہ چین میں موجود ٹرائٹن جزیرے سے صرف 12 ناٹیکل میل کے فاصلے پر گشت کرتے ہوئے گزر گیا۔چین نے امریکہ پر مزید الزام لگایا ہے کہ وہ خطہ میں ’جان بوجھ کر مسئلے پیدا کر رہا ہے‘ حالانکہ چین اور اس کے جنوب مشرق ایشیا میں واقع پڑوسی ممالک سے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

یاد رہے ماضی میں بھی امریکہ نے چین کو متعدد بار خبردار کیا ہے کہ وہ اس متنازع علاقے میں اپنی جارحیت نہ دکھائے لیکن چین کا کہنا ہے کہ یہ اس کی قومی سالمیت کا اندرونی معاملہ ہے۔اقوام متحدہ کہ قوائد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے ساحلی علاقے سے 12 ناٹیکل میل تک کے علاقے پر اپنی ملکیت کا دعوی کر سکتا ہے۔ اس قانون کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی بیڑے کا وہاں سے گزرنا ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ چین کے دعوے کو نہیں مانتا۔

قدرتی وسائل سے مالامال جنوبی بحیرہ چین کے خطے میں چین کی دعوے داری کو کئی ممالک کی جانب سے چیلنج کا سامنا ہے اور یہاں واقع جزائر پر مختلف ممالک کے دعوے ہیں جن میں تائیوان، چین، ویتنام، فلپائن، ملائیشیا اور برونائی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…