جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چینی جنگی جہاز امریکی بحری بیڑے کو روکنے کیلئے روانہ ہوگئے،چینی سرکاری میڈیاکا اعلان،پوری دنیامیں کھلبلی مچ گئی

datetime 3  جولائی  2017 |

بیجنگ (آئی این پی)چینی جنگی جہاز امریکی بیڑے کی موجودگی پر بحیرہ جنوبی چین روانہ ہوگئے، چینی سرکاری میڈیاکا اعلان، چین کے جنگی جہاز متنازعہ جزیرے کی جانب روانہ کر دیئے گئے ہیں، چینی صدر شی جن پھنگ نے ٹرمپ سے بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے کی متنازعہ جزیرے کے قریب موجودگی پر احتجاج کیا ہے،شی نے کہا ہے کہ منفی محرکات امریکہ اور چین تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں،

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صدور نے جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے،بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اشتعال انگیزی ہے،چینی وزارت خارجہ نے امریکی جنگی بیڑے یو ایس ایس سٹیٹ ہیم کے جنوبی بحیرہ چین میں متنازع جزیرے کے نہایت قریب سے گزرنے پر شدید مذمت کی ہے، چینی سرکاری نشریاتی ادارہ کی جانب سے نشر کی گئی تفصیلات کے مطابق چین کے جنگی جہاز متنازعہ جزیرے کی جانب روانہ کر دےئے گئے ہیں۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے ٹرمپ سے بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے کی متنازعہ جزیرے کے قریب موجودگی پر احتجاج کیا ہے۔شی نے کہا ہے کہ منفی محرکات امریکہ اور چین تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صدور نے جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی بحری بیڑے سے متعلق بات چیت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا نہ تردید نہ تصدیق۔ بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اشتعال انگیزی ہے۔چینی وزارت خارجہ نے امریکی جنگی بیڑے یو ایس ایس سٹیٹ ہیم کے جنوبی بحیرہ چین میں متنازع جزیرے کے نہایت قریب سے گزرنے پر شدید مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی بیڑہ جنوبی بحیرہ چین میں موجود ٹرائٹن جزیرے سے صرف 12 ناٹیکل میل کے فاصلے پر گشت کرتے ہوئے گزر گیا۔چین نے امریکہ پر مزید الزام لگایا ہے کہ وہ خطہ میں ’جان بوجھ کر مسئلے پیدا کر رہا ہے‘ حالانکہ چین اور اس کے جنوب مشرق ایشیا میں واقع پڑوسی ممالک سے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

یاد رہے ماضی میں بھی امریکہ نے چین کو متعدد بار خبردار کیا ہے کہ وہ اس متنازع علاقے میں اپنی جارحیت نہ دکھائے لیکن چین کا کہنا ہے کہ یہ اس کی قومی سالمیت کا اندرونی معاملہ ہے۔اقوام متحدہ کہ قوائد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے ساحلی علاقے سے 12 ناٹیکل میل تک کے علاقے پر اپنی ملکیت کا دعوی کر سکتا ہے۔ اس قانون کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی بیڑے کا وہاں سے گزرنا ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ چین کے دعوے کو نہیں مانتا۔

قدرتی وسائل سے مالامال جنوبی بحیرہ چین کے خطے میں چین کی دعوے داری کو کئی ممالک کی جانب سے چیلنج کا سامنا ہے اور یہاں واقع جزائر پر مختلف ممالک کے دعوے ہیں جن میں تائیوان، چین، ویتنام، فلپائن، ملائیشیا اور برونائی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…