جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کپتان چھوٹے موٹے گندے انڈوں کو الیکشن میں ٹکٹ نہیں دیگا ، آصف علی زرداری

datetime 1  جولائی  2017 |

مور و(آئی این پی)سابق صدر آصف علی زرداری نے کہ اہے کہ یہ جو چھوٹے موٹے گندے انڈے ادھر ادھر جاتے ہیں ان گندے انڈوں کو کپتان بھی ٹکٹ نہیں دے گا ‘ کپتان نے صرف مزا بنایا ہوا ہے ان کو لے کر تصویریں کھنچواتا پھر رہا ہے ‘ میاں صاحب چار سال میں صرف 4 مرتبہ اسمبلی آئے اس سے زیادہ تو محمد خان جونیجو آیا تھا ‘ اگر یہی معیار ہوا تو دوسرا و زیر اعظم صرف ایک بار آئے گا۔ ہم نے چائنہ کے ساتھ

دوستی کو آگے بڑھایا جس پر صرف ایک ملک کو اعتراض ہے جو میاں صاحب کا یار ہے ‘ کشمیر کاز ہمارا اپنا ہے ‘ اس لئے ہم کشمیر کی بات کرتے ہیں ‘ بھارت تو نا گا لینڈ اور نیپال کو ہڑپ کر کے بیٹھا ہے۔ دنیا وہاں نہیں دیکھتی مودی صاحب کو گلے لگایا جارہا ہے۔ یہاں میاں صاحب مری میں بیٹھ کر جانوروں کے ساتھ کھیل رہاہے ‘ بلاول نے 2 سال پہلے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے وزیر خارجہ رکھو آپ دنیا کی ڈپلو میٹک جنگ ہار رہے ہو۔ ہفتہ کو مورو میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ میاں صاحب آپ 4 مرتبہ اسمبلی آئے اور آپ خود کو اس ہائوس کا لیڈر کہتے ہو اس سے زیادہ تو محمد خان جونیجو آیا تھا۔ اگر یہی معیار ہوا تو دوسرا وزیر اعظم صرف ایک بار آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں نے پارلیمنٹ کو پاور نہ دی ہوتی تو آج میاں صاحب صدر ہوتے۔ سیاست میں بہت دور کا سوچنا پڑتا ہے۔ اگر میں نے چائنہ کی طرف دیکھا تو اس لئے نہیں دیکھا کہ پاکستان کو آج کا فائدہ ہے چائنہ کے ساتھ دوستی کو ہم نے آگے بڑھایا۔ اس لئے آگے بڑھایا کیونکہ آنے والے پاکستان کے بچوں کی اس میں بہتری ہے سوائے ایک ملک کے جس کو اعتراض ہے جو میاں صاحب کا یار ہے۔ دیگر ممالک کو معاشی ترقی پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس ملک کے پاس ایسے ہتھیار نہیں کہ ہم خرید سکیں پاکستان نے کبھی کسی ملک کو دھمکی نہیں دی۔ آصف زداری نے کہا کہ کشمیر

کاز ہمارا اپنا ہے کشمیر کاز اقوام متحدہ کی سب سے پرانی قرار داد ہے اس لئے ہم کشمیر کی بات کرتے ہیں اس لئے نہیںکرتے کہ پاکستان نے اپنی سرحد بڑھانی ہے۔ بھارت تو ناگا لینڈ اور نیپال کو ہڑپ کر کے بیٹھا ہے وہاں دنیا نہیں دیکھتی۔ مودی صاحب کو گلے لگایا جا رہا ہے۔ یہاں میاں صاحب مری میں بیٹھا اپنے جانوروں کے ساتھ کھیل رہاہے اس کو یہ سوچ نہیں مجھے یہ سوچ ہے ‘ بلاول کو یہ سوچ ہے۔ بلاول صاحب نے 2 سال پہلے کہا کہ خدا کے واسطے وزیر خارجہ رکھو۔ وزارت خارجہ کو مضبوط کرو آپ دنیا کی ڈپلومیٹک جنگ ہار رہے ہو ۔ آصف زرداری نے کہا کہ دوستو ںکو کہتا ہوں کہ آپ پر امید رہیں اگلی فتح آپ کی ہے۔ بھول جائیں یہ چھوٹے موٹے جو گندے انڈے ہمارے ادھر ادھر جاتے ہیں ان گندے انڈوں پر آپ آنکھ نہ رکھیں ان گندے انڈوں کو کپتان بھی ٹکٹ نہیں دے گا۔ کپتان نے صرف ایک مزا بنایا ہوا ہے کہ ان کو لے کر تصویریں کھنچواتا پھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اتنی صلاحیت ہے کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پاکستان میں نہ ہو۔ صرف ہمارے پاس دماغ نہیں ہے۔ اگر اسلام آباد ہماری بات سمجھنے لگے تو آج یہ پاور پلانٹ لگانے کی جو ناکام کوشش کر رہے ہیںاس میں کامیاب ہو جاتے۔ ہمیں جب بھی حکومت ملی ہے مشکلوں میں ملی ہے اور جب چھوڑا ہے تو بہتر چھوڑا ہے۔ جب بھٹو صاحب کو پاکستان ملا تو آدھا پاکستان ہاتھ سے نکل چلا تھا۔ 90 ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے اس کے باوجود انہوں نے بغیر جنگ لڑے ٹیبل پر اندرا گاندھی سے اپنے فوجی اور زمین دونوں واپس لئے۔ آصف زرداری نے کہا کہ ہم چائنہ کو اس بات پر لے کر آئے کہ آپ کو گرم پانیوں پر آناہے تاکہ آپ کے لئے بھی دوسرا سہارا بنے سمندر کا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کا مستقبل ہے تو پیپلز پارٹی کے پاس ہے ۔ میرے بچوں نے گھر کے نوکروں کی تنخواہ بڑھا دی ۔ بلاول اور آصفہ مستقبل کی لیڈر شپ ہے یہ ان کی سوچ ہے ۔ آصف زرداری نے کہاکہ ایک ٹویٹ بیٹیاں کرتی ہیں اور والد کو بھی سوچنا پڑتا ہے کہ اس کو لوں یا نہ لوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…