جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

آسٹریلیا بھی جنگ کے میدان میں کود پڑا،33ہزار امریکی اورآسٹریلوی فوجی بحیرہ چین میں پہنچ گئے

datetime 30  جون‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی) متنازعہ سمندری علاقہ جنوبی بحیرہ چین میں امریکہ اور آسٹریلیا کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا گیا ہے،یہ مشقیں ایک ماہ تک جاری رہیں گی، ان مشقوں کو چین کے خلاف ایک متحدہ محاذ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ان مشقوں میں 33 ہزار امریکی اور آسٹریلوی فوجیوں سمیت ہتھیاروں کے لڑائی کی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق متنازعہ سمندری علاقہ جنوبی بحیرہ چین میں جاری ان مشقوں سے چین کی جانب سے محاذی سر گرمی پر کشیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکی پیسفک کمانڈ رکے سربراہ ایڈمرل ہیری ہارس نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ مشقیں ایک پیغام کے طور پر ہے جسے ہمارے دوستوں ، اتحادیوں اور شراکت داروں نے ممکنہ مخالفین کو بھیجا ہے اور میں اس پیغام پر خوش ہوں،سڈنی یونیورسٹی میں سیاست اور غیر ملکی پالیسی کے پروفیسر جیمز کرران نے کہا کہ اس مشق نے امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان قریبی فوجی تعلقات کی وضاحت کی ہے ، چین کے لئے یہ علاقہ سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا علاقہ ہے، چین اس کے ذریعے 5ٹریلین ڈالر کی سالانہ تجارت کرتا ہے،جبکہ برونائی، ملائیشیا، فلپائن، ویت نام اور تائیوان بھی اس پانی کے راستے کے دعویدار ہیں۔معروف چینی روزنامہ ساؤتھ چائنا مارننگ کی رپورٹ کے مطابق متنازعہ سمندری علاقہ جنوبی بحیرہ چین میں امریکہ اور آسٹریلیا کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، ان مشقوں کو چین کے خلاف ایک متحدہ محاذ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ان مشقوں میں 33 ہزار امریکی اور آسٹریلوی فوجیوں سمیت ہتھیاروں کے لڑائی کی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق متنازعہ سمندری علاقہ جنوبی بحیرہ چین میں جاری ان مشقوں سے چین کی جانب سے محاذی سر گرمی پر کشیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکی پیسفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہارس نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ مشقیں ایک پیغام کے طور پر ہے جسے ہمارے دوستوں ، اتحادیوں اور شراکت داروں نے ممکنہ مخالفین کو بھیجا ہے اور میں اس پیغام پر خوش ہوں،امریکہ اور چین مابین تعلقات اس وقت ممکنہ طور پر کھٹائی میں دکھائی دیتے ہیں۔

امریکہ جنوبی بحیرہ چین پر بیجنگ کے مصنوعی جزیرے کی تعمیر نہیں چاہتا اور نہ ہی اس سمندری حدود میں چین کی ممکنہ طور پر حکمرانی کی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے۔ چین کے لئے یہ علاقہ سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا علاقہ ہے، چین اس کے ذریعے 5ٹریلین ڈالر کی سالانہ تجارت کرتا ہے۔جبکہ برونائی، ملائیشیا، فلپائن، ویت نام اور تائیوان بھی اس پانی کے راستے کے دعویدار ہیں۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کا کہنا ہے کہ چین نے گذشتہ 3سالوں میں اس متنازعہ سمندری علاقہ کے3200ایکڑ پر چین اپنی فوجی تنصیبات ، مواصلات ،ریلوے، بندرگاہیں اور ہوائی جہاز کے اڈے نصب کر چکا ہے جو کہ غلط ہے، سڈنی یونیورسٹی میں سیاست اور غیر ملکی پالیسی کے پروفیسر جیمز کرران نے کہا کہ اس مشق نے امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان قریبی فوجی تعلقات کی وضاحت کی ہے۔ لیکن چین میں گھیرنے کے بارے میں فکر بڑھ سکتی ہے۔یہ مشقیں آسٹریلوی علاقائی پانیوں میں ایک ماہ تک جاری رہیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…