بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

امریکہ نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے مد مقابل دو منصوبے بنالئے،افغانستان اور بھارت کو ملایاجائیگا،تفصیلات جاری

datetime 30  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکہ بھارت کے ساتھ مل کرچین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے مد مقابل دو اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کا آغاز کرنا چاہتا ہے، ان منصوبوں میں بھارت کا کردار اہم ہو گا،یہ منصوبے جنوبی ایشیائی ممالک کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو باہم ملانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں،،

نیو سلک روڈ (NSR)افغانستان اور اس کے ہمسائیہ ممالک اور ہند بحرالکاہل جنوب اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو ملائے گی، اس منصوبہ کے لئے علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کی جائیگی اور تعاون کے لئے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں اور نجی شعبہ سے بھی مدد لی جائیگی،امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ دور رس عوامی سفارت کاری کے پروگراموں میں بھارت افغانستان اور دیگر علاقائی ممالک کی بھر پور حمایت کرے گا،افغانستان میں اقتدار کی منتقلی بتدریج جاری ہے اور اس منصوبہ کی بدولت افغان عوام کامیاب اور اپنے طور پر کھڑے ہو سکیں گے۔امریکی محکمہ خارجہ تعلقات کونسل کے جیمز میک برائڈ کے مطابق این ایس آر مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور وسطی ایشیا کو اقتصادی ترقی اور استحکام لانے کی صلاحیت ہے۔معروف خبر رساں ادارہ فرسٹ پوسٹ میں شائع کردہ تفصیلات کے مطابق امریکہ بھارت کے ساتھ مل کرچین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے مد مقابل دو اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ ان منصوبوں میں بھارت کا کردار اہم ہو گا۔یہ منصوبے جنوبی ایشیائی ممالک کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو باہم ملانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔دونوں منصوبوں کا خاکہ گذشتہ روزبجٹ میں نئی شاہراہ اور ریشم منصوبہ کے نام سے شامل کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جنوب اور وسطی ایشیا کی اس بجٹ درخواست کے ان اقدامات کی تائید کی جائے گی۔  نیو سلک روڈ (NSR)افغانستان اور اس کے ہمسائیہ ممالک اور ہند بحرالکاہل جنوب اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو ملائے گی۔اس منصوبہ کے لئے علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کی جائیگی اور تعاون کے لئے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں اور نجی شعبہ سے بھی مدد لی جائیگی۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سفارتی پروگراموں میں بھارت افغانستان اور دیگر علاقائی ممالک کی بھر پور حمایت کرے گا۔ افغانستان میں اقتدار کی منتقلی بتدریج جاری ہے اور اس منصوبہ کی بدولت افغان عوام کامیاب اور اپنے طور پر کھڑے ہو سکیں گے۔امریکی محکمہ خارجہ تعلقات کونسل کے جیمز میک برائڈ کے مطابق این ایس آر مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور وسطی ایشیا کو اقتصادی ترقی اور استحکام لانے کی صلاحیت ہے۔

واضح رہے ہ اس منصوبے کااعلان سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے 2011میں چنائے میں اپنی تقریر میں کیا تھا۔ کلنٹن نے چنئی میں کہا تھا: “ترکمان گیس فیلڈز پاکستان کی اور بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات دونوں کو پورا کرنے میں مدد اور افغانستان اور پاکستان تاجک کپاس دونوں کے لیے اہم ٹرانزٹ آمدنی فراہم کر سکتا ہے اور اب ٹرمپ انتظامیہ اس منصوبہ میں بھارت کو انتہائی اہم رول دیتے ہوئے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ مکمل کرنا چاہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…