بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سینکڑوں سال گزر جانے کے بعد بھی کئی انسانوں کی لاشیں خراب کیوں نہیں ہوتیں؟

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں شخص کے فوت ہونے کے کافی عرصہ بعد کسی وجہ سے قبر کشائی کی گئی تو ڈیڈ باڈی اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی تروتازہ پائی گئی. ڈیکمپوزیشن کیوں نہیں ہوتی ؟؟؟ایسا کیوں ہوتا ہے، اس بارے میں سائنس کی ریسرچ جواب دیتی ہے-اصل میں لاش کے ٹشو تب گلتے سڑتے ہیں جب بیکٹیریا لاش پر حملہ آور ہوتے ہیں –

بیکٹیریا کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اگر آکسیجن نہ ہو (بعض زمینی فارمیشنز ایسی ہوتی ہیں جہاں آکسیجن آزاد حالت میں نہیں رہ پاتی) تو لاش محفوظ رہے گی اسی طرح اگر لاش کو سپیس سوٹ میں رکھا جائے لیکن سپیس سوٹ سے آکسیجن نکال کر نائٹروجن بھر دی جائے تب آکسیجن کے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی decomposition نہیں ہوگی اور بالفرض اس لاش کو سپیس سٹیشن سے چھوڑا جائے (جو زمین کے گرد گردش کر رہا ہے) تو وہ لاش ہمیشہ زمین کے گرد گھومتی رہے گی اور محفوظ رہے گی-اس کے علاوہ بیکٹیریا کو زندہ رہنے کے لیئے نمی کی بھی ضرورت ہوتی ھے اگر کسی وجہ سے لاش ایسی جگہ پر دفن ہے جہاں یا تو نمی نہ ہو (جیسا کہ ریگستان میں ہوتا ہے) تو لاش عرصہ تک محفوظ رہ سکتی ہے -شدید سردی میں بھی بیکٹیریا مر جاتے ہیں چنانچہ برفانی علاقوں میں دفن لاشیں ہزاروں سال تک محفوظ رہتی ہیں – ایسا دنیا میں کئی جگہ ہوتا ہے – یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ١٩٩١ میں اٹلی کی سرحد کے قریب برفانی پہاڑوں میں ایک لاش ملی تھی جو ٣٣٠٠ قبل مسیح یعنی پانچ ہزار سال سے پرانی ہے ، پر یہ چونکہ برف میں دفن تھی اسلیے اتنی اچھی حالت میں تھی کہ اس کی جلد پر نقش و نگار (ٹیٹو ) اور اسکنے معدے میں اسکی آخری خوراک کا تجزیہ بھی کیا گیا ،

اسکو آپ Otzi لکھ کر سرچ کر سکتے ہیں-قدیم مصر میں فرعونوں کی لاشوں کو حنوط کرنے کے لیے کیمیائی مرکبات زمین سے لیے جاتے تھے جنہیں لاش پر لگایا جاتا تھا – یہی کیمیائی مرکبات اگر اتفاقاً اس علاقے میں موجود ہوں جہاں کسی مردے کو دفنایا جائے تو اس مردے کی لاش بھی حنوط ہوجاتی ہے اور خراب بھی نہیں ہوتی-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…