پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

غیر قانونی رقم کی منتقلی پرپے پال کو جر مانہ

datetime 27  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )پے پال ایران، کیوبا اور سوڈان میں پابندیوں کے خلاف ورزی کرتے ہوئے رقوم کی منتقلی کے دعوﺅں کے بعد امریکی حکومت کو 77لاکھ امریکی ڈالر جرمانہ ادا کرے گی۔امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ رقوم کی منتقلی کرنے والے یہ ادارہ رقوم کی منتقلی کا مناسب طور پر جائزہ لینے اور منتقلی کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔رقوم کی منتقلیوں میں سات ہزار امریکی ڈالر کی منتقلی بھی شامل ہے جو ایک ایسے فرد کی طرف کی گئی ہے جس کا نام امریکی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کی فہرست میں شامل ہے۔پےپال کا کہنا ہے کہ انھوں نے رقوم کی جانچ پڑتال کو بہتر بنایا ہے۔ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’رضا کارانہ‘ طور پر محکمہ خزانہ کے آفس آف ایسٹس کنٹرول (او ایف اے سی) کو سنہ 2009 اور سنہ 2013 کے درمیان ہونے والی مخصوص رقوم کی منتقلی کے بارے میں بتایا تھا۔پے پال کے مطابق جانچ میں تاخیر کے باعث کچھ غیرقانونی رقوم کی منتقلی بھی عمل میں آئی تھی۔پے پال کے نمائندے نے بتایا کہ ’اس وقت سے ہم نے او ایف اے سی کے قوائد و ضوابط پر پورا اترنے کے لیے رقوم کی وقت حقیقی میں جانچ متعارف کروائی ہے۔‘ایسے ہی ایک کیس میں کرساد ظفر سیئر نامی شخص بھی شامل تھے، جنھیں سنہ 2009 میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پڑنے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام سے منسلک قرار دیا تھا۔اکتوبر سنہ 2009 اور اپریل سنہ 2013 کے درمیان پے پال نے مبینہ طور پر ان کے نام سے 136 بار رقوم منتقل کیں۔دیگررقوم کیوبا، سوڈان اور ایران میں مال اور سروسز سے متعلق تھیں۔مجموعی طور پر، محکمہ خزانہ کے مطابق تقریباً 40 ہزار امریکی ڈالر کی 500 منتقلیاں پے پال کے ذریعے ہوئیں، جو واضح طور پر ان پابندیوں کی خلاف ورزی ہے جو امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیے گئے افراد یا اداروں سے بزنس نہ کرنے کا پابند کرتی ہیں۔تاہم، پے پال نے پابندیوں کی خلاف ورزی کو تسلیم یا اس کی تردید نہیں کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…