جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کاایسا انوکھا اور نایاب ترین پاسپورٹ جو صرف تین افراد کے پاس ہے، یہ پاسپورٹ کس نے جاری کیا تھا؟

datetime 13  جون‬‮  2017 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک وقت میں صرف تین افراد کو جاری ہونے والے مالٹا کے خودمختار ملٹری آرڈر (Sovereign Military Order of Malta) کے پاسپورٹ کو دنیا کا نایاب ترین پاسپورٹ سمجھا جاتا ہے۔ کیتھولک کے اس ملٹری آرڈر کے پاسپورٹ کوان کے تین اعلیٰ ترین افسروں کو جاری کیا جاتا ہے۔ ان افسروں میں گرانڈ ماسٹر، ڈپٹی گرانڈ ماسٹر اور چانسلر شامل ہیں تاہم یہ تینوں افسران دنیا کا نایاب ترین پاسپورٹ رکھنےکے باوجود سفر کے دوران وہی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں، جو ان کے اپنے ممالک نے جاری کیے ہیں۔

اس پاسپورٹ کا مکمل ٹائٹل Sovereign Military Hospitaller Order of Saint John of Jerusalem of Rhodes and of Malta ہے، جسے پہلی بار 1099 میں جاری کیا گیا تھا۔1800 میں جزیرہ مالٹا چھن جانے کے بعد یہ ملٹری آرڈر روم میں دو عمارتوں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہاں سے وہ اپنے ڈاک ٹکٹ، کرنسی اور پاسپورٹ جاری کرتے ہیں۔آج کل یہ کیتھولک آرڈر فلاحی تنظیم کے طور پر دنیا بھر میں صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔اس آرڈر یا گروپ میں 13500 نائٹس، ڈیمز اور چیپلینز کے ساتھ 80 ہزار مستقل رضا کار اور 25 ہزار ملازمین شامل ہیں۔کیتھولک آرڈر کے سپین، روس اور امریکا سمیت 106 مختلف ملکوں سے سفارتی تعلقات ہیں لیکن امریکا ، برطانیہ اور نیوزی لینڈ سمیت بہت سے ممالک ان کا پاسپورٹ تسلیم نہیں کرتے۔کیتھولک آرڈر کےموجودہ گرینڈ ماسٹر میتھو فیسٹنگ 1259 کے بعد دوسرے برطانوی ہیں، جنہوں نے یہ عہدہ حاصل کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…