ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

صولت مرزا وڈیو معاملے پر مقدمہ دائر کروں گا: الطاف حسین

datetime 27  مارچ‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے پھانسی سے چند گھنٹے پہلے صولت مرزا کی ایک ویڈیو پیغام کی ریکارڈنگ پر سوالات اْٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر وزیراعظم نواز شریف اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کے خلاف ایک مقدمہ دائر کریں گے۔جمعرات کو ایک ٹی وی پروگرام میں ٹیلی فون کے ذریعے حصہ لیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ ’’صولت مرزا کی وڈیو کہاں سے آئی؟ یہ ڈیتھ سیل سے اس کی پھانسی سے چند گھنٹے پہلے کیسے باہر آئی؟ میں ایک وزیراعظم اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کراؤں گا۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کو کراچی میں خراب صورتحال کی رپورٹوں پر دو مرتبہ معطل اور کچھ کارکنوں کو برطرف کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’’میرے گھر پر چھاپہ مارا گیا، لیکن کیا کوئی شخص مجھے کسی پارٹی کے رہنما کا نام بتاسکتا ہے جو اس طرح کے رویے کا شکار ہوا ہو؟‘‘اسی پروگرام میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے ایم کیو ایم کے قائد کی اس دلیل کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایسی کوئی بھی مثال نہیں ملتی کہ سزائے موت کے منتظر ایک مجرم کو اس کی پھانسی سے چند گھنٹے پہلے اس کے ویڈیو پیغام کو نشر کرنے کی اجازت دی گئی ہو۔یاد رہے کہ صولت مرزا نے الطاف حسین، سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں پر سنگین الزمات عائد کیے تھے اور کہا تھا کہ اسے اور دیگر کارکنوں کو پارٹی کی جانب سے استعمال کیا گیا، اور ’’ٹشوپیپر کی مانند استعمال کے بعد پھینک دیا گیا۔‘‘اس کے نو منٹ کے بیان میں لگائے گئے الزامات کو تقریباً تمام نیوز چینلز نے نشر کیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ انٹرویو بلوچستان کی مچھ جیل میں کس طرح اور کب ریکارڈ کیا گیا، جہاں اس پھانسی دے دی جائے گی۔مذکورہ ٹی وی پروگرام میں ایم کیو ایم کے قائد نے اس بات کو مسترد کردیا کہ سابق سٹی ناظم مصطفٰے کمال اور انیس قائم خانی کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز نائن زیرو اور اس کے ملحقہ علاقے سے چھاپے کے دوران غیرملکی ہتھیار برآمد کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ ’’میں کسی پر الزام عائد نہیں کرتا۔ فوج کل بھی ہماری تھی، اور آج بھی ہماری ہے۔ ملک کی بہتری کے لیے میں نے اس روز وزیراعظم اور وزیرداخلہ سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…