جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان پر غیراعلانیہ جنگ کا الزام،اشرف غنی نے ہتھیارڈال دیئے،طالبان کو اب تک کی سب سے بڑی پیشکش

datetime 6  جون‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی) افغان صدرڈاکٹر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر الزام لگایا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کی غیر اعلانیہ جارحانہ جنگ کا سامنا ہے ، ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان ہم سے کیا چاہتا ہے،پاکستان کو اس بات پر کس طرح قائل کیا جاسکتا ہے کہ ایک مستحکم افغانستان ان کو اور خطے کو مدد فراہم کرے گا، پاکستان سے امن کے خواہاں ہیں،گزشتہ 2 برسوں کے دوران 11 ہزار غیر ملکی جنگجو داعش میں شمولیت کے لیے افغانستان آچکے ہیں،

اگر طالبان امن مذاکرات میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں دفتر کھولنے کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں تاہم یہ ان کیلئے آخری موقع ہوگا،طالبان کو افغان حکومت گرانے نہیں دیں گے، امن اجلاس کامقصد دہشت گردی کامقابلہ اور امن کو یقینی بنانا ہے، پڑوسی ممالک سے مضبوط تعلقات افغان حکومت کی پالیسی ہے، گذشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے ٹرک بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 150ہوچکی ہے۔منگل کو افغان میڈیا کے مطابق کابل میں افغانستان کے حوالے سے ہونے والی بین الاقوامی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ افغانستان کو پاکستان کی غیر اعلانیہ جارحانہ جنگ کا سامنا ہے ، ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان ہم سے کیا چاہتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو اس بات پر کس طرح قائل کیا جاسکتا ہے کہ ایک مستحکم افغانستان ان کو اور خطے کو مدد فراہم کرے گا۔انھو ں نے کہاکہ پاکستان سے امن کے خواہاں ہیں،امن اجلاس کامقصد دہشت گردی کامقابلہ اور امن کو یقینی بنانا ہے۔اشرف غنی نے کہاکہ،گزشتہ 2 برسوں کے دوران 11 ہزار غیر ملکی جنگجو داعش میں شمولیت کے لیے افغانستان آچکے ہیں،اگر طالبان امن مذاکرات میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں دفتر کھولنے کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں

تاہم یہ ان کیلئے آخری موقع ہوگا،طالبان کو افغان حکومت گرانے نہیں دیں گے۔طالبان امن قائم کریں یا نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں، قومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے طالبان کے پاس یہ آخری موقع ہے ۔وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔اشرف غنی نے کانفرنس میں بتایا کہ گذشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے ٹرک بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 150ہوچکی ہے جبکہ 300 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا، جن میں سے بیشتر جلے ہوئے اور دھماکا خیز مواد سے متاثر تھے۔اس سے قبل حکام نے واقعے میں 90 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جبکہ اشرف غنی نے ہلاکتوں میں اچانک اس قدر اضافے کی وجہ نہیں بتائی۔

امن کانفرنس کے موقع پر کابل میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گیے تھے، جس میں کابل کی سڑکوں کو بکتر بند گاڑیاں موجود تھیں جبکہ اس موقع پر فضائی نگرانی بھی کی گئی تاہم افغان خبر رساں ادارے خاما کی ویب سائٹ کے مطابق سخت سیکیورٹی کے باوجود کابل میں بھاری سفارت خانے کی حدود میں ایک راکٹ آکر گرا جو دھماکے سے پھٹ گیا لیکن اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…