جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان پر غیراعلانیہ جنگ کا الزام،اشرف غنی نے ہتھیارڈال دیئے،طالبان کو اب تک کی سب سے بڑی پیشکش

datetime 6  جون‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی) افغان صدرڈاکٹر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر الزام لگایا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کی غیر اعلانیہ جارحانہ جنگ کا سامنا ہے ، ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان ہم سے کیا چاہتا ہے،پاکستان کو اس بات پر کس طرح قائل کیا جاسکتا ہے کہ ایک مستحکم افغانستان ان کو اور خطے کو مدد فراہم کرے گا، پاکستان سے امن کے خواہاں ہیں،گزشتہ 2 برسوں کے دوران 11 ہزار غیر ملکی جنگجو داعش میں شمولیت کے لیے افغانستان آچکے ہیں،

اگر طالبان امن مذاکرات میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں دفتر کھولنے کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں تاہم یہ ان کیلئے آخری موقع ہوگا،طالبان کو افغان حکومت گرانے نہیں دیں گے، امن اجلاس کامقصد دہشت گردی کامقابلہ اور امن کو یقینی بنانا ہے، پڑوسی ممالک سے مضبوط تعلقات افغان حکومت کی پالیسی ہے، گذشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے ٹرک بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 150ہوچکی ہے۔منگل کو افغان میڈیا کے مطابق کابل میں افغانستان کے حوالے سے ہونے والی بین الاقوامی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ افغانستان کو پاکستان کی غیر اعلانیہ جارحانہ جنگ کا سامنا ہے ، ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان ہم سے کیا چاہتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو اس بات پر کس طرح قائل کیا جاسکتا ہے کہ ایک مستحکم افغانستان ان کو اور خطے کو مدد فراہم کرے گا۔انھو ں نے کہاکہ پاکستان سے امن کے خواہاں ہیں،امن اجلاس کامقصد دہشت گردی کامقابلہ اور امن کو یقینی بنانا ہے۔اشرف غنی نے کہاکہ،گزشتہ 2 برسوں کے دوران 11 ہزار غیر ملکی جنگجو داعش میں شمولیت کے لیے افغانستان آچکے ہیں،اگر طالبان امن مذاکرات میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں دفتر کھولنے کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں

تاہم یہ ان کیلئے آخری موقع ہوگا،طالبان کو افغان حکومت گرانے نہیں دیں گے۔طالبان امن قائم کریں یا نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں، قومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے طالبان کے پاس یہ آخری موقع ہے ۔وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔اشرف غنی نے کانفرنس میں بتایا کہ گذشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے ٹرک بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 150ہوچکی ہے جبکہ 300 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا، جن میں سے بیشتر جلے ہوئے اور دھماکا خیز مواد سے متاثر تھے۔اس سے قبل حکام نے واقعے میں 90 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جبکہ اشرف غنی نے ہلاکتوں میں اچانک اس قدر اضافے کی وجہ نہیں بتائی۔

امن کانفرنس کے موقع پر کابل میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گیے تھے، جس میں کابل کی سڑکوں کو بکتر بند گاڑیاں موجود تھیں جبکہ اس موقع پر فضائی نگرانی بھی کی گئی تاہم افغان خبر رساں ادارے خاما کی ویب سائٹ کے مطابق سخت سیکیورٹی کے باوجود کابل میں بھاری سفارت خانے کی حدود میں ایک راکٹ آکر گرا جو دھماکے سے پھٹ گیا لیکن اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…