ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں کہ آپؒ نے اس زمانہ میں کئی حج بھی کیے اور سب سے پہلا حج آپؒ نے 89 ھ میں کیا۔ سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ عرفہ کی صبح میں اپنے والد کے ساتھ عرفات میں کھڑا تھا اور سیدنا عمر ثانیؒ امیر الحج تھے۔ میں نے اپنے والد سے کہا کہ میں انہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ جونہی میں نے انہیں دیکھا تو میں نے اپنے والد سے کہا کہ جب بھی کوئی شخص انہیں دیکھتا ہے تو اس کے دل میں ان کی محبت پیوست ہو جاتی ہے اور آپ نے تو سیدنا ابو ہریرہؓ سے سنا ہے کہ رسول اللہؐ
فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص سے محبت فرماتے ہیں تو جبرائیلؑ سے فرماتے ہیں کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں پس تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت عمرؒ نے ان علماء کو اس لیے بلایا تھا کہ یہ آپؒ کی حکومتی معاملات میں اعانت کریں اور انہیں صحیح مشورہ دیں، چنانچہ علماء مجلس شوریٰ میں آ کر بیٹھ جاتے۔ حضرت عمرؒ انہیں اپنے عزائم سے آگاہ کرتے اور فرماتے کہ میں آپ سب حضرات کے مشورہ کے بعد ہی کسی کام کا فیصلہ کر سکتا ہوں لہٰذا آپ حضرات مظالم کی چھان بین کریں۔



















































