جس شخص کی نہاد ذہنی آخرت رخی زندگی ہو وہ حکومت کے عہدہ کو کیسے قبول کرے گا۔ لہٰذا بحیثیت گورنر مقرری کے باوجود حضرت عمرؓ مدینہ نہیں جا رہے تھے، ولید نے حاجب سے پوچھا: عمرؓ کیوں نہیں جا رہے؟ اس نے کہا ’’ان کی کچھ شرائط ہیں جب تک وہ پوری نہ ہوں وہ اپنے عہدہ کا چارج نہیں لیں گے، ولید نے آپ کو بلایا اور پوچھا تو آپؒ نے فرمایا: ’’مجھے پہلے گورنروں کی طرح ظلم پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
ولید نے ان کی یہ شرط فوری طور پر منظور کرتے ہوئے کہا ’’تم حق پر عمل کرنا خواہ ایک درہم بھی شاہی خزانہ میں نہ آئے۔‘‘حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جونہی گورنر کی حیثیت سے مدینہ منورہ پہنچے تو سب سے پہلا کام جو آپ نے یہاں کیا، وہ یہ تھا کہ وہاں کے دس بڑے فقہا اور علماء کو اپنے پاس بلایا۔ ان علماء کے نام یہ ہیں، عروہ بن زبیرؒ ، عبیداللہ بن عبداللہؒ ، سلیمان بن یسارؒ ، قاسم بن محمد بن ابی بکرؒ ، سالم بن عبداللہؒ ، خارجہ بن زیدؒ ، ابوبکر بن عبدالرحمان، ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہؒ عبداللہ بن عامر بن ربیعہؒ ، سعید بن مسیبؒ ۔ علامہ زھبیؒ نے لکھا ہے کہ نماز ظہر پڑھ کر ان کو بلایا اور ان سے ایک مختصر سا خطاب کیا۔ جس میں آپؒ نے فرمایا: ’’میں نے آپ حضرات کو ایک ایسے کام کے لیے بلایا ہے جس میں ایک تو آپ ماجور ہوں گے اور دوسرے آپ کو حق کا ساتھی ہونے کا انعام ملے گا۔ میں آپ حضرات سے مشورہ کیے بغیر کوئی کام نہیں کرنا چاہتا، لہٰذا آپ کے ذمہ لازم ہے کہ جب آپ حضرات کسی کو ظلم کرتے دیکھیں یا آپ کو کسی عامل کے ظلم کی اطلاع ملے تو میں آپ کو خدا کی قسم دیتاہوں کہ آپ اس کی ضرور مجھے اطلاع دیں۔ ایک گورنر کے منہ سے یہ کلمات سن کر حیرانگی بھی ہوئی اور خوشی اور مسرت بھی، کیونکہ انہوں نے آج تک کسی گورنر کے منہ سے ایسی بات نہیں سنی تھی۔ لہٰذا یہ فقہاؒ حضرت عمرؒ کو دعائیں دیتے ہوئے واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔



















































