حضرت عمرؒ کے والد حضرت عبدالعزیزؒ مصر کے گورنر تھے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ ام عاصم کو لکھا کہ اپنے بیٹے عمر کو اپنے ساتھ لے کر حلوان مصر آ جاؤ۔ انہوں نے اپنے تایا سیدنا عبداللہ بن عمر سے اس بارے میں مشورہ کیا۔ انہوں نے فرمایا: تم مصر چلی جاؤ اور عمر کو یہیں مدینہ میں رہنے دو تاکہ اسے مدینہ کی پرفضا علمی آب و ہوا میں تعلیم و تربیت کی دولت سے مالا مال کیا جا سکے۔
چونکہ حضرت عمرؒ اپنے نانا فاروق اعظمؓ سے مشابہت کی وجہ سے آل خطاب کی محبت و شفقت کا مرکز تھے۔ اس لیے ام عاصم اپنے بیٹے عمر کو مدینہ منورہ میں چھوڑ کر حلوان مصر چلی گئیں۔ جب وہ مصر پہنچیں تو عبدالعزیزؒ نے ان سے پوچھا: عمر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اسے تعلیم و تربیت کے لیے مدینہ کی خوشگوار علمی فضا میں چھوڑ آئی ہوں۔ اس سے عبدالعزیز کو بڑی خوشی ہوئی کہ میرابیٹا اپنے ماموؤں کے سایہ عاطفت و شفقت میں تعلیم و تربیت حاصل کرے گا۔ چنانچہ عبدالعزیزؒ نے خود بھی فوری طورپر اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دی اور اپنے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو بھی دمشق میں اس بارے میں ایک خط لکھا۔ خط پڑھ کر عبدالملک کو بہت خوشی ہوئی۔ اس نے اپنے بھتیجے کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک ہزار دینار وظیفہ ماہانہ جاری کر دیا۔ الغرض عمر بن عبدالعزیزؒ کی تعلیم و تربیت مدینہ طیبہ کی علمی فضا اور ماحول میں جودو کرم کے نعمت کدوں اور چچاؤں کے مال و دولت اور ماموؤں کی شفقتوں کے زیر سایہ ہوئی۔



















































