حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا لڑکپن کا زمانہ تھا۔ باپ بیٹے کو شدید محبت کرنے کے باوجود مصر سے مدینہ منورہ تحصیل علم کے لیے بھیجنا چاہتا تھا۔ بیٹے کو بھی باپ کے ارادے کا علم ہو گیا۔ انہوں نے والد سے پوچھا ’’اس کے علاوہ آپ کی کوئی اور خواہش ہے؟ باپ نے جواب دیا، اور تو کوئی خواہش نہیں، بس یہی آرزو ہے کہ تو مدینہ منورہ جائے اور وہاں کے علماء و فقہا سے علم حاصل کرے، ان سے زمانے میں رہنے کے آداب سیکھے، امید ہے کہ یہ بات تیرے اور میرے دونوں کے لیے مفید اور نفع بخش
ثابت ہو گی! بیٹا باپ کے ان جذبات کو سن کر مدین کی طرف چل پڑا اور عنفوانِ شباب ہی میں علم و دانش اور حدیث و فقہ کی تعلیم حاصل کر لی۔ اسی اثناء میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا تو ان کے تایا عبدالملک بن مروان نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا اور انہیں اپنے بچوں میں شامل کر لیا اور بعد میں اپنی بیٹی فاطمہ کو ان کے عقد میں دے دیا جن کی شان کے بارے میں کسی شاعر نے یہ کہا تھا ’’وہ ایک خلیفہ کی بیٹی تھی اور اس کا دادا بھی خلیفہ تھا، وہ خلفاء کی بہن تھی اور اس کا شوہر بھی خلیفہ تھا۔‘‘



















































