حضرت محمد بن ابی قیلہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمرؓ کو خط لکھ کر علم کے بارے میں پوچھا۔ حضرت ابن عمرؓ نے اسے یہ جواب لکھا کہ تم نے مجھے خط لکھ کر علم کے بارے میں پوچھا ہے۔ علم تو بہت زیادہ ہے میں سارا لکھ کر تمہیں نہیں بھیج سکتا۔ البتہ تم اس بات کی پوری کوشش کرو
کہ تمہاری اللہ سے ملاقات اس حال میں ہو کہ تمہاری زبان مسلمانوں کی آبروریزی سے رکی ہوئی ہو اور تمہاری کمر پر ان کے ناحق خون کا بوجھ نہ ہو اور تمہارا پیٹ ان کے ناحق مال سے خالی ہو او رتم مسلمانوں کی جماعت سے چمٹے ہوئے ہو۔ یعنی فرقہ بازی میں مت پڑو (رائے کا اختلاف دلیل کے ساتھ الگ چیز ہے)۔



















































