ایک دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے نماز میں دیر کر دی اور جماعت ہونے کے بعد مسجد میں تشریف لائے، آپؒ کے استاد صالح بن کیسانؒ نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو آپ نے جواب دیا: ’’بال سنوارنے میں دیر ہو گئی تھی‘‘ شاگرد کے جواب نے استاد کو ورطۂ حیرت حیرت میں ڈال دیا اور وہ سمجھے کہ شاگرد کے دل میں بالوں کی اہمیت نماز با جماعت کی اہمیت سے زیادہ ہے کیونکہ بالوں کی آرائش میں شغف کو نماز پر ترجیح دی گئی ہے۔چنانچہ انہوں نے فوراً عمر ؒ کے والد ماجد عبدالعزیزؒ
کو یہ واقعہ اور شاگرد کا یہ جواب لکھ کر بھیجا۔ انہوں نے فوری طور پر ایک شخص روانہ کیا جس نے مدینہ میں داخل ہوتے ساتھ ہی سب سے پہلے حضرت عمرؒ کے بال مونڈھے اور بعد میں کسی سے بات کی۔اس واقعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؒ کے والد ماجد نے بچپن ہی سے کس ذمہ داری اوراہتمام کے ساتھ فرزند ارجمند کی تربیت فرمائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ والد کی تربیت اور دیگر خارجی واقعات نے آپ کو امت کے جلیل القدر اور نامور نفوس قدسیہ میں شامل فرما دیا تھا۔



















































