اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

سیلز کو نقصان پہنچائے بغیر کینسر کا کامیاب علا ج ۔۔۔۔

datetime 26  مارچ‬‮  2015 |

بوسٹن(نیوز ڈیسک )کینسر اور ایبولا جیسی مہلک بیماریاں عام طور پر لاعلاج ہی تصور کی جاتی ہیں لیکن اب نینو ذرات کی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا علاج دریافت کر لیا گیا جو صرف کینسر کا باعث بننے والے سیل کو ہی مارتا ہے جس نے کینسر کے مو¿ثرعلاج کی امیدیں ایک بار پھر روشن کردیں ہیں۔بوسٹن میں کی گئی تحقیق کے بعد اس طریقہ علاج کو دریافت کیا گیا ہے جس کے مطابق نینو ٹیکنالوجی میں مادہ کو مالیکیولر یا ایٹمک اسکیل پر تیزی سے زندہ سیل میں سرائیت کرایا جاتا ہے جو کینسر کے باعث بننے والے سیل کے قاتل کا کام کرتا ہے۔ محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی سب سے اہم اور بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نینو ذرات کو دوا کے ساتھ لگا کرجسم میں داخل کیا جاتا ہے جو صرف کینسر کے مہلک سیل کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور جسم کے صحت مند سیل کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا جب کہ انفرا ریڈ شعاعیں نینو ذرات کے درجہ حرارت کو بڑھا دیتی ہیں جس کی گرمی سے یہ ذرات کینسر سیل کو ماردیتے ہیں تاہم اس عمل کے دوران جسم میں موجود صحت مند سیل کو نقصان نہیں پہنچتا۔محققین نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیق میں 10 سال کا عرصہ لگا تاہم اس کو مزید بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں اوراس جدید ترین طریقہ کو نینو اسٹارز کا نام دیا گیا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ستارے کی شکل کے ان ذرات پر دوا لگانے کے لیے سطحی رقبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ زیادہ تیزی سے کینسر سیل کو مارتا ہے کیوں کہ یہ زیادہ تیزی سے گرم ہوتا ہے، نینو ذرات کے استعمال سے جگر اور گردوں کے متاثر ہونے کے خدشے سے بچنے کے لیے ہماری غذا کے اہم جز سلینیم کے نینو ذرات کو تیار کیا جا رہا ہے جو جگر اورگردوں کو متاثر ہونے سے بچائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج کو مکمل محفوظ بنانے کے بعد ہی انسانی جسم پر استعمال کیا جائے تاہم یہ کینسر کےعلاج میں ایک انقلاب برپا کردے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل کینسر کے علاج کے طریقہ کیمو تھراپی میں نہ صرف کینسر سیل مرتے ہیں بلکہ اس سسے جسم میں موجود صحت مند سیل بھی مرنے لگتے ہیں جس سے مریض موت کا شکار ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…