بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

نور دین تم اب

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

میراثی نے اونچی آواز میں کہا ”مولوی صاحب چوری کی بھینس آپ کے باڑے سے نکل آئی ہے“ مولوی صاحب نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور سکتے کے عالم میں دیر تک میراثی کی طرف دیکھتے رہے‘ پنچائیت نے بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا‘ لوگ اٹھے اور آہستہ آہستہ محفل سے غائب ہونے لگے۔ میراثی پیغام دینے کے بعد واپس چلا گیا‘ مولوی صاحب خفگی‘ خجالت اور شرمندگی میں ڈوبتے چلے گئے۔

یہ کیفیت قدرتی تھی‘ ہم جس خطے میں رہ رہے ہیں وہاں مولوی صاحبان عزت اور ایمانداری کا نشانہوتے ہیں‘ یہ لوگوں کو نماز بھی پڑھاتے ہیں‘ ان کے کلمے بھی سیدھے کرتے ہیں‘ ان کے جنازے بھی ادا کرتے ہیں اور ان کے چھوٹے بڑے تنازعے بھی نمٹاتے ہیں۔ آپ اندازا کیجئے اس ماحول میں گاﺅں کے واحد مولوی صاحب پر چوری کا الزام لگ جائے اور وہ الزام بھی گاﺅں کی پنچائیت میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے لگایا جائے تو مولوی صاحب کی کیا حالت ہو گی؟ ان مولوی صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ وہ پنچائیت میں بیٹھے تھے‘ لوگوں کے تنازعوں کا فیصلہ کر رہے تھے‘ میراثی آیا اورمولوی صاحب کی عزت مٹی میں رول دی‘ لوگ اٹھ کر گھروںکو چلے گئے‘ مولوی صاحب سر پکڑ کر بیٹھے رہے ‘ میراثی تھوڑی دیر بعد ہانپتا کانپتا واپس آیا‘ مولوی صاحب کے دونوں پاﺅں پکڑے اور روتے روتے کہا ”مولوی صاحب مجھے معاف کر دیں‘چوری کی بھینس آپ کے باڑے سے نہیں نکلی وہ آپ کے ہمسائے نے چوری کی تھی اور وہ وہیں سے برآمد ہوئی‘ مجھ سے غلطی ہو گئی ‘ میں اب گھر گھر جا کر آپ کی صفائی پیش کروں گا“مولوی صاحب دیر تک میراثی کو خالی خالی نظروں سے دیکھتے رہے اور پھر آہستہ سے بولے ”نوردین تم اب جو بھی کر لومیں علاقے میں چور بن چکا ہوں‘ لوگ مجھے باقی زندگی چور مولوی ہی کہیں گے“ میراثی نے مولوی صاحب سے اتفاق نہیں کیا لیکن مولوی صاحب کی بات حقیقت تھی‘ دنیا میں سب سے قیمتی چیز انسان کی عزت ہوتی ہے‘ یہ اگر ایک بار داغدار ہو جائے تو یہ دوبارہ صاف نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…