اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر دفاع اور بجلی و پانی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہیں ان کے خلاف آپریشن ہونا چاہئے‘ کسی بھی سیاسی جماعت میں کوئی بھی کریمنل موجود ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ختم ہونے چاہئیں اور جن جماعتوں میں کریمنلز موجود ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست قانون کے دائرہ کار میں رہ کر دہشتگردوں اور کریمنلز کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مذہب کو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں جو کہ غیر مناسب ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی ایک ادارے کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہئیے کیونکہ تمام اداروں میں کوئی نہ کوئی خرابیاں موجود ہوتی ہیں۔ انہوں نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کہا کہ آنے والی گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں کی وجہ سے اس کے اثرات تمام چیزوں پر مرتب ہوئے ہیں اور مہنگائی میں کمی آ رہی ہے۔ رانا فضل اللہ کی ہلاکت کے سوال پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی میں تصدیق نہیں کر سکتا کہ وہ ہلاک ہوا ہے کہ نہیں۔
عسکری ونگ کی حا مل سیا سی جما عتو ں کےخلاف آپریشن ہونا چاہئے،خواجہ آصف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اختتام کا آغاز
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا...
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی، پہلا استعفیٰ آگیا
-
سحری میں اہل خانہ کا اجتماع ،دوشیزہ نے باپ کو قتل کرڈالا
-
روس کی تیسری عالمی جنگ کی دھمکی
-
پاکستان کی درخواست پر ایران نے سعودی عرب پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دے دی
-
سوشل سکیورٹی سے رجسٹرڈ مریم نواز راشن کارڈ نہ رکھنے والے محنت کشوں کے لیے خوشخبری



















































