جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے ساتھ جنگ،بھارتی آرمی چیف کے پہلے ہی ہوش اُڑ گئے،حیرت انگیز موقف اختیارکرلیا

datetime 28  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی(آئی این پی )بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ محدود جنگ کی توقع نہیں ہے، ہمیں مقبوضہ کشمیر میں پراکسی وار کا سامنا ہے جو ہمیشہ بری ہوتی ہے،مجھے خوشی ہوگی اگر کشمیری مظاہرین ہمیں پتھر کے بجائے گولی ماریں، فوج کا حوصلہ بلند کرنے کیلئے کشمیر ی کو جیپ کے آگے باندھنے والے آرمی افسر کو عزاز دیا۔بھارتی خبر رساں ادارے’’پی ٹی آئی ‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں

جنرل بپن راوت کا کہنا تھاکہ اگر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مظاہرین فوج پر پتھرا کی جگہ گولیاں چلائیں گے تو مجھے خوشی ہوگی اس کے بعد میں وہ کروں گا جو میر ا دل کرے گا ۔ انکا کہنا تھاکہ جب کشمیری فوج پر پتھرا اورپیٹرول بم پھینکتے ہیں تو میں اپنے فوج کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ انتظارکرو اور مرجاؤ جبکہ فوج کا حوصلہ بلند کرنا میرا کام ہے اس لیے مقبوضہ کشمیر میں موجود فوج کا مورال بلند کرنے کے لیے کشمیر ی کو جیپ کے آگے باندھنے والے آرمی افسر کو عزاز دیا ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جامع پلان کی ضرورت ہے جس میں تمام لوگوں کو شامل کیا جائے ۔پاکستان کے ساتھ محدود جنگ کی توقع نہیں ہے۔ہمیں کشمیر میں ایک بری جنگ کا سامنا ہے ۔یہ ایک پراکسی وار ہے اور پراکسی وار گندی ہوتی ہے ۔۔اس سے قبل بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کشمیرمیں عدم استحکام پیداکرکے بھارت کوغیرمستحکم کرناچاہتاہے،کشمیرمیں اب بار باربیامنی کی اجازت نہیں دینگے،جلد مسئلہ کشمیر کامستقل حل نکال لیں گے،حل میں کشمیر،کشمیری اورکشمیریت کاخیال رکھاجائیگا،جلد مسئلہ کشمیر کامستقل حل نکال لیں گے، کشمیرمسئلے کے حل کاکوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے،تمام اسٹیک ہولڈرزسے بات کرناچاہتے ہیں لیکن بلاشرائط ہونگی۔اتوار کو بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ راجناتھ

سنگھ نے این ڈی اے حکومت کی تین سالہ کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے بی پی کی ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرکامسئلہ ہمارے لیے چیلنج ہے،جلد کشمیر کے مسئلہ کامستقل حل نکال لیں گے۔کشمیرمیں اب بار باربیامنی کی اجازت نہیں دینگے،راج ناتھ نے کہاکہ حل میں کشمیر،کشمیری اورکشمیریت کاخیال رکھاجائیگا،کشمیرمسئلے کے حل کاکوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے،تمام اسٹیک ہولڈرزسے بات کرناچاہتے ہیں لیکن بلاشرائط ہونگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…