جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بلاول بھٹوکے فیصلے سے اختلاف،آصف زرداری نے بڑا فیصلہ کرلیا،تحریک انصاف لاڑکانہ میں کیا کرنیوالی ہے؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 27  مئی‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے سندھ میں تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیو ں کے باعث صوبے میں پارٹی سے ناراض رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس ضمن میں پارٹی کی صوبائی قیادت کو ہدایت دی گئی ہیں کہ وہ ان ارکان سے رابطہ کرکے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائیں۔

آصف علی زرداری ناراض رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کو منانے کے حق میں نہیں تھے تاہم پارٹی کی سینئر قیادت اور خصوصاً بلاول بھٹو زرداری کی رائے تھی کہ انتخابات کا انعقاد نزدیک ہے ۔ایسی صورت حال میں پارٹی رہنماؤں کی ناراضی انتخابات میں پارٹی کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے ۔آصف علی زرداری کی بیرون ملک روانگی کی اطلاعات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ بلاول بھٹو زرداری بھرپور انداز میں اپنی پالیسیاں پر عملدرآمد کراسکیں ۔ذرائع کے مطابق رمضان المبارک سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سندھ میں بھرپور سیاسی سرگرمیوں نے پیپلزپارٹی قیادت کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔آصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی تواتر کے ساتھ پیپلزپارٹی میں شمولیت کے بعد پارٹی قیادت کو یقین تھا کہ آئندہ عام انتخابات میں اندرون سندھ سے کامیابی حاصل کرنے میں کسی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔تاہم پہلے مسلم لیگ (فنکشنل) کے سربراہ پیر پگارا کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی کوششوں اور پھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے سندھ کے مختلف شہروں میں جلسوں کے انعقاد نے پیپلزپارٹی کی صفوں میں کھلبلی مچادی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے کندھ کوٹ میں منعقدہ جلسے کے دروان صوبے کی اہم سیاسی شخصیات کی تحریک انصاف میں شمولیت متوقع تھی

تاہم مزید کچھ اہم شخصیات پی ٹی آئی میں شمولیت کی یقین دہانی کے بعدکندھ کوٹ جلسے میں اس کا اعلان نہیں کیا گیا ۔تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی اور لیاقت جتوئی کی بھرپور کوششوں کے بعد بھٹو خاندان کے اہم افراد کی تحریک انصاف میں شمولیت کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ عمران خان جلد لاڑکانہ میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے

اور اس جلسے میں ممتاز بھٹو، امیر بخش بھٹو ،پیپلزپارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی ،سابق بیوروکریٹس اور اہم سیاسی شخصیات تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرسکتی ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے پارٹی کے صوبائی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ لاڑکانہ میں جلسہ کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور حکمت عملی مرتب کی جائے ۔تحریک انصاف اس جلسے سے پیپلزپارٹی کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اندرون سندھ سے کلین سوئپ کا خواب اس کی خام خیالی ہے۔

ادھر پیپلزپارٹی کی قیادت نے ناراض پارٹی رہنماؤں کو منانے کے سلسلے میں سرگرمیاں تیز کردی ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری ناراض رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کو منانے کے حق میں نہیں تھے تاہم پارٹی کی سینئر قیادت اور خصوصاً بلاول بھٹو زرداری کی رائے تھی کہ انتخابات کا انعقاد نزدیک ہے ۔ایسی صورت حال میں پارٹی رہنماؤں کی ناراضی انتخابات میں پارٹی کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آصف علی زرداری کی بیرون ملک روانگی کی اطلاعات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ان کی غیر موجودگی میں بلاول بھٹو زرداری پارٹی کے تمام معاملات دیکھیں گے اور بھرپور انداز میں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…