اسلام آباد(نیوز ڈیسک)برطانیہ کی سیکریٹری داخلہ ٹریسا مے نے کہا ہے کہ برطانیہ اسلامی انتہا پسندوں کا برطانوی اقدار کو رد کرنے والا رویہ برداشت نہیں کرے گا۔ اپنے ایک بیا ن میں انھوں نے کہا کہ مستقبل کی ٹوری حکومت ’کلوزر آرڈرز‘ جیسے اقدامات لائے گی جن میں ان جگہوں کو بند کر دیا جائے گا جن کو انتہا پسند استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ انتہا پسندی کو روکنے کے لیے بھی سول ’اکسٹریم ازم ڈسرپشن آرڈرز‘ کا منصوبہ زیرِ غور ہے جس کو افراد کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ٹریسا مے نے کہا کہ برطانیہ میں ہر کسی کی ذمہ داریاں اور حقوق ہیں اور انھیں چاہیے کہ وہ قوانین اور اداروں کا احترام کریں۔انھوں نے کہا کہ اگر کنزرویٹوز عام انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو دوسرے اقدامات بھی کیے جائیں گے جن میں: ایسے گروہوں پر پابندی لگا دی جائے گی جن پر ابھی قانونی طور پر دہشت گردی کے قوانین لاگو نہیں ہوتے، عوام میں برطانوی اقدار کے فروغ کے لیے مثبت مہم، ان سپلیمنٹری سکولوں کا از سرِ نو جائزہ جو ابھی بے ضابطہ یا غیر منظم ہیں، ایچ ایم انسپیکٹوریٹ آف کانسٹیبلری اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ پولیس نے ’عزت کے جرائم‘ جیسے ایف جی ایم اور زبردستی کی شادی، کے متعلق کس طرح کا ردِ عمل ظاہر کیا ہے، جیلوں میں نئے ’ایکسٹریم ازم آفیسر‘ تعینات کیا جائیں گے جن کا کام جیلوں میں بند انتہا پسندوں اور گینگز سے نمٹنا ہو گا، شہریت کے قانون کا بھی از سرِ نو جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کامیاب امیدوار برطانوی اقدار کا احترام کرتے ہیں، ترجمے کی سہولیات کی فنڈنگ میں بڑی کمی اور انگریزی زبان کی تربیت کے لیے کافی پیسہ مختص کیا جائے گا،ٹریسا مے نے ان میں سے کئی تجاویز ستمبر کو ہونے والی پارٹی کانفرنس میں بھی دی تھیں۔ انھوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ انگلینڈ اور ویلز میں اسلام کے قانونی نظام۔ شریعت لاز۔ کا بھی از سرِ نو جائزہ لینے کا منصوبہ ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ وہ برطانوی اقدار سے کتنی مطابقت رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس بات کے کافی ثبوت ہیں کہ برطانیہ میں کم مگر نمایاں تعداد میں لوگ ہیں جن میں سے زیادہ تر برطانوی شہری ہیں جو ہماری اقدار کو رد کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سینکڑوں کی تعداد میں برطانوی شہری شام اور عراق میں لڑنے کے لیے گئے ہیں اور برمنگھم میں ’ٹروجن ہارس پلاٹ‘ پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اگرچہ ارکانِ پارلیمان کی ایک کمیٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایک سکول میں ایک واقعے کے علاوہ کسی دوسرے سکول میں انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے کوئی بھی شواہد نہیں ملے۔تھنک ٹینک مسلم فورم کے چیئرمین منظور مغل نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے ٹریسا مے کی تجاویز کو لوگوں کی آزادی کے خلاف کہا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم شاید نیند میں چلتے ہوئے پولیس سٹیٹ جیسی جگہ میں جا رہے ہیں۔
برطانیہ انتہا پسندوں کو برداشت نہیں کر یگا،بر طا نو ی وزیر داخلہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل میں ملوث ملزم کوگی بٹ کا مبینہ وائس نوٹ سامنے آگیا
-
ایران توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کس کس ملک کو نشانہ بناسکتا ہے؟ نام سامنے آگئے



















































