پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

’’گرمی کے موسم میں یہ والی چپلیں ہرگز مت پہنیں ورنہ بڑا نقصان ہو سکتا ہے ‘‘ ماہرین نے خبردار کر دیا

datetime 19  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جیسے ہی گرمی اور بہار کا موسم آتا ہے لوگ روز مرہ پہنے جانے والے جوتوں کی جگہ ربر کی چپلیں پہننے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ نرم اور کھلی ہوئی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے گرمی میں کافی آرام محسوس ہوتا ہے ،لیکن ربر کی چپلوں کے بہت سے نقصانات بھی ہوتے ہیں جن سے آپ یقیناً ناواقف ہوں گے۔ ٭ربر کی چپلیں پہننے میں تو بہت آرام دہ ہوتی ہیں لیکن جلد ہی پیروں کے انگوٹھوں کے نیچے سوجن پیدا کردیتی ہیں،

جس کی وجہ سے چلنے میں بے حد دشواری ہوتی ہے۔ ٭ربر کی چپلوں کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ پیروں کے تلووں کو بالکل بھی سپورٹ نہیں کرتیں ،جبکہ جوتے پاؤں کے نچلے درمیانی حصے کو اس کی ساخت برقرار رکھنےاور وزن متوازن رکھنے میں مدد کرتے ہیں ،لیکن ربر کی چپلیں نیچے سے سیدھی ہونے کی وجہ سے تلووں کو وزن اٹھاکر چلنے میں سپورٹ نہیں کرتیں جس کی وجہ سے جلد ہی درد کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ ٭ربر کی چپلوں کی ایک اور خرابی یہ ہے کہ اس میں جلد ہی فنگس لگ جاتی ہے ،خاص طور پر جب آپ انہیں پانی میں بھی پہنے رکھیں ،چپلوں میں موجود فوم میں فنگس آجاتا ہے جس سے پیروں میں بیماریاں لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ٭ربر کی چپلوں پر پلاسٹک کی دو اسٹریپس لگی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے یہ باآسانی پاؤں میں پہنی جا سکتی ہیں لیکن زیادہ دیر پہننے کی وجہ سے یہ اسٹرپس آپ کے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان سوجن پیدا کردیتے ہیں جس سے پاؤں میں شدید تکلیف ہوتی ہے۔ ٭ بہت سارے اسکولز نے ربر کی چپلوں پر پابندی لگادی ہے کیونکہ انہیں پہننے کی وجہ سے بچوں کو شرمندگی کا سامنا کرناپڑتا ہے،اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے انہیں پہن کر چل رہے ہوتے ہیں اور اچانک یہ آپ کے پاؤں سے اتر جاتی ہے اس سے پاؤں کی ایڑی میں چوٹ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے،لہٰذا ماہرین انہیں پہن کر بھاگنے دوڑنے سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…